
کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے تحت بلدیاتی اداروں کے اختیارات سلب کرنے اور شہری اداروں پر قبضے کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی ترمیمی بل کی دوبارہ منظوری کے خلاف عوامی دستخطی مہم کے سلسلے میں ہفتے کو برنس روڈ ،تین تلوار کلفٹن اور دیگر مقامات پر کیمپ لگائے گئے ،امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے رکن سندھ اسمبلی و امیر جماعت اسلامی ضلع جنوبی کے ہمراہ کیمپوں کا دورہ کیا،کیمپوں پر عوام کی بڑی تعداد نے نئے بلدیاتی نظام اور اہل کراچی کے حقوق غصب کرنے کے خلاف دستخط کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا،سید عبد الرشید
نے برنس روڈ پر قائم کیمپ پرمطالباتی پینا فلیکس پر دستخط کیے۔حافظ نعیم الرحمن نے کیمپوں پر آنے والوں اور قریبی مارکیٹوں اور دکانوں میں لوگوں سے ملاقات کی، جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کے بارے میں بتایا اور19دسمبر کو مزار قائد تا کے ایم سی بلڈنگ ’’کراچی بچاؤ مارچ‘‘میں شرکت کی دعوت دی،عوام کی جانب سے حافظ نعیم الرحمن کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا اور جماعت اسلامی کی کوششوں اور جدوجہد کو سراہا گیا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ بلدیاتی ترمیمی بل کراچی کے عوام کے ساتھ دھوکا ہے،ہم کراچی میں بااختیارشہری حکومت کے قیام سمیت ترمیمی بل کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہیں،سندھ حکومت نے ہماری تجاویز اور سفارشات کو شامل نہیں کیا اس کے باوجود یہ کہنا کہ ہمیں اعتماد میں لیاگیا ہے درست نہیں،صوبائی وزرا کی ادارہ نور حق آمد اور ملاقات میں بھی ہم نے واضح کیا کہ3 کروڑ سے زایدآبادی کے حامل شہر کے لیے سندھ حکومت جو بلدیاتی نظام لارہی ہے وہ اہل کراچی کے حق اور شہری اداروں پر قبضے کے مترادف ہے اسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جاسکتا،جماعت اسلامی بلدیات کے نئے قوانین کے خلاف اور کراچی کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہدجاری رکھے گی اور اتوار19دسمبر کو مزار قائد تا کے ایم سی بلڈنگ ایک عظیم الشان اور تاریخی ’’کراچی بچاؤ مارچ‘‘منعقد کیا جائے گا۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہاکہ جماعت اسلامی وڈیرہ شاہی اور کالے قانون کے خلاف عوام سے ملاقات اور دسخطی مہم بھی چلارہی ہے،گزشتہ 14 سال سے پیپلز پارٹی براہ راست اور مسلسل صوبے میں حکومت کررہی ہے لیکن آج تک اس نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا۔اب کالے قوانین کے ذریعے کراچی پر اپنا قبضہ کرنا چاہتی ہے ۔وفاقی حکومت بھی کراچی کو کچھ دینے پر تیار نہیں ،گزشتہ ساڑھے3 سال میں کراچی نے 9ہزار ارب ٹیکس کی مد میں وفاق کو دیے اور وفاقی حکومت 3 کروڑ سے زاید شہریوںکے لیے صرف 70 بسیں خیرات دے کر احسان کررہی ہے۔وزیر اعظم بھی ایک ادھورے منصوبے کا ٹرائل افتتاح کرکے چلے گئے۔آخر کراچی کے عوام کے ساتھ یہ مذاق کب تک چلے گا؟،ملازمتیں اور تعلیم ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن پیپلزپارٹی بلدیاتی اداروں میں لسانیت اور عصبیت کی بنیاد پر بھرتیاں کرنا چاہتی ہے ،51 سال سے کراچی میں ایک بھی جنرل اسپتال نہیں بنا، ایم کیو ایم آج بھی وفاق میں شامل ہے ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے مل کر کوٹا سسٹم میں اضافہ کرکے اورجعلی مردم شماری کی منظوری دے کر کراچی کے لوگوں پر شب خون مارا ہے، 2012ء اور 2013ء میں ایم کیو ایم نے بلدیہ کو بے اختیار کردیا تھا، 2013ء کے بعد بھی ایم کیو ایم حکومت میں شامل رہی انہوں نے بلدیاتی اختیارات کے لیے کیا کیا؟ آج وہ لوگ جو صوبہ بنانے کی بات کرتے ہیں انہوں نے سب سے زیادہ کراچی کے لوگوں کا استحصال کیا۔جماعت اسلامی بلدیاتی ترمیمی بل کے خلاف گلی ، محلے کی سطح پر تحریک چلائے گی ، کراچی کے عوام اپنا حق واپس لے کر رہیں گے اور کراچی کو وڈیرہ شاہی نظام سے آزاد ی ضرور حاصل ہوگی ۔سید عبد الرشید نے کہاکہ جماعت اسلامی کی تحریک دوسرے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے،پیپلزپارٹی کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا ہے ، سندھ اسمبلی میں بلدیاتی ترمیمی بل نظر ثانی کے نام پر دوسری بار پیش کیا گیااوراس کالے قانون کی منظوری کے لیے جمہوریت کامذاق اڑایا گیا ،چ پیپلز پارٹی نے بلدیہ کی آمدنی کے تمام محکمے اوراختیارات کو اپنے قبضے میں کرلیا ہے ۔معذوروں کا کوٹا کھانے والے ،معذوروں اور خواجہ سراؤں کی نشستیں مختص کرکے عوام کو دھوکا دینے کی کوشش کررہے ہیں، ہم نے ایک با ر پھر اسمبلی میں اس بل پر احتجاج کیا اوراب فیصلہ سڑکوں پر ہوگا ۔
