سوشل ڈیموکریٹ جرمن رہنما اولاف شولز نے جرمنی کے نویں چانسلر کے طور پر حلف اٹھالیا ہے۔ چانسلر اولاف شولز کے زمام حکومت سنبھالتے ہی انجیلا مرکل کے 16 سالہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔ اقتدار میں آتے ہی شولز نے 177 صفحات پر مشتمل ” ڈئیر مور پراگریس” نامی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس میں جرمنی کو سرسبز و شاداب بنانے سے یورپ کی سب سے بڑی معیشت کو جدت پسند کرنے جیسے بہت سارے عہد شامل تھے۔ اینجلا مرکل کی 16 سال بعد رخصتی کے بعد شولز نے ایک نئے جرمنی کی بنیاد رکھنےکا عہد کیاہے جب کہ ان کی حکومت کو بہت سارے چیلنجز کا سامنا بھی ہوگا۔ نئے جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے ملک کے لیے نیا آغاز ہوگا اور میں اس نئے آغاز کے لیے ہر ممکن کوشش کروں گا۔
شولز کی مخلوط حکومت میں ایس پی ڈی یعنی سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی، ماحول پسند گرین پارٹی اور فری ڈیمو کریٹک پارٹی ایف ڈی پی شامل ہیں۔ اس معاہدے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف کوششیں بھی شامل ہیں جو کہ گرین پارٹی کی اولین ترجیح ہے۔ معاشرتی بہتری کی پالیسیز، بیوروکریسی کو ڈیجیٹیلائز کرنا اور نقل مکانی جیسے معاملات نئی حکومت کی اولین ترجیح ہیں۔ اس کے علاوہنئی مخلوط حکومت کے اہم ترین مقاصد میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو کم کر نا، زوال پذیر ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کو ٹھیک کرنا، شہریت کے قوانین کو جدید بنانا، کم از کم اجرت میں اضافہ کرنا اور جرمنی کو دنیا کے ان مٹھی بھر ممالک میں سے ایک بنانا ہے، جہاں گانجے یا ویڈ کو قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ اور ان سب میں اہم ترین کرونا وائرس انفیکشنز کی شرح کو کم کرنا ہے۔
وبا
جرمنی کو ملک میں ویکسین کے خلاف آبادی کی ایک بڑی تعداد کا سامنا ہے۔ اس وقت تک 69 فیصد جرمن آبادی مکمل طور پر ویکسین زدہ ہے جبکہ 3۔21 فیصد نے بوسٹر خوارک بھی لگوا لی ہے مگر اس کے باوجود 12 سال اور اس سے زائد عمر کے 16 ملین افراد تاحال غیر ویکسین زدہ ہیں۔ نئے وزیر صحت کارل لاٹر باخ نے وبا کو دوسری جنگ عظیم کے بعد صحت کا سب سے بڑا بحران قرار دیا ہے۔ لاٹر باخ کا کہنا تھا کہ میرے لیے یہ بہت واضح ہے کہ یہ میری زندگی کا مشکل ترین کام ہے۔ رابرٹ کوچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ملک بھر میں جمعرات کے روز 61،288 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جب کہ 484 افراد بھی کرونا وبا سے جاں بحق ہوگئے ہیں۔ وبا کی جنگ میں چانسلر اولف شولز نے ایک مستقل بحران ٹیم کا قیام عمل میں لایا یے جس میں وائرولوجسٹس، ایپی ڈیمالوجسٹس اور سیاستدان شامل ہیں۔ شولز کا کہنا تھا کہ ہمیں عوامی جگہوں پر ویکسی نیشن کو لازمی قرار دینا چاہیے۔
ڈیجیٹلائزشین اور بیوروکریسی کا خاتمہ
ایک ماہ قبل شولز نے رپورٹرز کو بتایا تھا کہ ہم ڈیجیٹلائزیشن، سائنسی ریسرچ اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے ریکارڈ سرمایہ کاری کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سکولوں میں پرانے کمپیوٹرز سے لے کر صحت کے سیکٹر میں پرانی فیکس مشینوں تک جرمن کا پبلک سیکٹر قدیم ہوچکا ہے۔ جرمنی کے غیر مرکزیت شدہ سیاسی نظام کو پبلک سیکٹر میں جدت پسندی میں دیگر ترقی یافتہ ممالک کی نسبت پیچھے رہ جانے کی وجہ سمجھا جاتا ہے اور سابقہ جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے یہ بات کئی مرتبہ کہی تھی۔ مختلف ریاستوں کےمابین طاقت کی تقسیم عوامی سیکٹر میں ڈیجیٹلائزیشن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اب شولز کی حکومت عوامی سیکٹر کو ڈیجیٹلائز کر کے بیوروکریسی کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تیار ہے ۔جرمنی کی منسٹری آف ڈیجیٹلائزیشن جو کہ مصنوعی انٹیلی جنس کے میدان میں امریکہ اور چین سے بہت پیچھے ہے کو نئی مخلوط حکومت بہتر کرے گی۔
توانائی اور ملک کو سرسبزو شاداب بنانا
گرین پارٹی کے شریک رہنما اور شولس کی حکومت میں نائب چانسلر کا عہدہ سنبھالنے والے رابرٹ ہابیک کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی کا مقصد”جرمن عوام کے لیے حکومت” قائم کرنا تھا۔ ہابیک اکانومی، انرجی اور کلائمیٹ کی وزارت کے سربراہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپ کی سب سے بڑی اور دنیا کی چوتھی بڑی معیشت جرمنی کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے اور اقتصادی خوشحالی کو یقینی بنانے جیسے بڑے چینلجز کا سامنا ہے۔ گرین پارٹی کی شریک لیڈر انالینا بیئر بوک جو کہ نئی حکومت میں وزیر خارجہ کا عہدہ سنبھالیں گی کا کہنا تھا کہ یہ حکومتی اتحاد جرمنی کی سماجی حقیقتوں کے حوالے سے انتہائی موزوں ہے۔
سماجی بہبود
نئی حکومت بے روزگاری ادائیگی پروگرام میں تبدیلیوں کا سوچ رہی ہے جس کو ہارٹز فور کا نام دیا گیا ہے جس کو شہری آمدن کہہ کہ بلایا جاتا ہے۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ اس کو فی کس 449 یورو یا 508 ڈالر تک بڑھایا جائے۔ جرمنی کی بزرگ آبادی کے لیے نئی مخلوط حکومت کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر 67 سال کر دی جائے ۔ اس کے علاوہ کم سے کم مزدوری فی گھنٹہ 82۔9 یورو سے بڑھا کر 12 یورو کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں گھروں کی کمی پر بھی نئی حکومت کی توجہ ہے اور حکومت ہر سال 4 لاکھ گھر بنانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
خارجہ پالیسی اور نقل مکانی
جرمنی کی تمام جماعتیں یوروپین کمیشن کے نقل مکانی اور پناہ کے 2020 میں تجویز کردہ معاہدے کی حمایت کرتی ہیں۔ اس معاہدے کی ایک اہم تجویز مشترکہ ذمہ داری کے قانون کے تحت یوروپین یونین کے زیر تحت ممالک کو نئے مقامات پر منتقلی بھی شامل تھی۔ اس فضا میں امیگریشن کا مسئلہ یورپ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ نئی حکومت کے اراکین کے مطابق بہت ساری بادشاہتیں صرف امیگریشن کی وجہ سے تباہ ہوگئیں۔ تاہم اگر خارجہ پالیسی کی بات کی جائے تو یہ یقینی طور پر مرکل کے دور کی خارجہ پالیسی سے الگ نہیں ہوسکتی اور روایتی جرمن خارجہ پالیسی پر ہی چلا جائے گا۔
اتوار، 12 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post جرمنی کی نئی حکومت کو کن چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے؟ شفقنا بین الاقوامی appeared first on شفقنا اردو نیوز.
