English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی جمناسٹک جنسی ہراسانی کا نشانہ بننے والی خواتین کو 38 کروڑ ہرجانہ ادا کرے گا

یو ایس اے جمناسٹکس اور قومی ٹیم کے سابق ڈاکٹر لیری نصر کے ہاتھوں جنسی ہراسانی کا نشانہ بننے والی سیکڑوں خواتین کے مابین طویل قانونی جنگ کا اختتام ہو گیا ہے۔ فریقین کے درمیان 38 کروڑ ڈالر ہرجانہ ادا کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق امریکی ریاست انڈیاناپولس میں واقع ایک وفاقی عدالت نے یو ایس اے جمناسٹکس، یو ایس اولمپکس اینڈ پیرالمپکس کمیٹی اور پانچ سو سے زائد مدعین کے مابین معاہدے کی منظوری دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ کی اولمپکس کی تحریک میں سب سے بڑے جنسی ہراسانی کے اسکینڈل کا ایک باب بند ہو گیا ہے۔

لیری نصر نے 300 سے زائد افراد کو ہراسانی کا نشانہ بنایا تھا جب کہ باقی افراد کو یو ایس اے جمناسٹکس سے تعلق رکھنے والے دیگر حکام کی جانب سے ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ستمبر میں نوے فی صد متاثرین نے عارضی طور پر 42 کروڑ ڈالر سے زائد کے ہرجانے کے معاہدے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ تاہم عدالت نے پیر کو 38 کروڑ ڈالر ہرجانے کے معاہدے کو منظور کیا ہے۔


فائل فوٹو

فائل فوٹو

یاد رہے کہ سیکڑوں بچیوں اور خواتین نے الزام لگایا تھا کہ مشی گن اسٹیٹ یونی ورسٹی، یو ایس اے جمناسٹکس جو اولمپئینز کی تربیت کرتے ہیں اور یو ایس اے جمناسٹکس کے مشی گن جم میں کام کرتے ہوئے لیری نصر نے انہیں طبی امداد کے بہانے جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

لیری نصر نے عدالت میں خواتین جمناسٹک کھلاڑیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے جرم کا اقرار کیا تھا۔ انہیں 2018 میں 40 سے 175 برس کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

کراچی کا مفت جمناسٹک سکول





please wait



No media source currently available

لیری نصر کے ہاتھوں جنسی تشدد کی تفصیلات سب سے پہلے 2016 میں منظر عام پر لانے والی خاتون ریچل ڈین ہولینڈر نے کہا ہے کہ قانونی جنگ پیسے کے لیے نہیں بلکہ تبدیلی کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمناسٹک کمیٹی میں تبدیلی سے متعلق سفارشات بہتری کے عمل کے لیے اہم ہیں۔

انہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خواتین کی قانونی جنگ اس بات کی درست تشخیص کے بارے میں ہے کہ کہاں خرابی پیدا ہوئی اور اب اس کی تشخیص کے بعد یہ ممکن بنانا ہے کہ یہ سب کچھ آئندہ نسل کے ساتھ نہ ہو۔

اس خبر کے لیے کچھ مواد ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ سے لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے