English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جنوری میں پورا خطہ اومیکرون کی لپیٹ میں ہوگا ، یورپی یونین

القمر

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین کی سربراہ اورزلا فان ڈیئر لائن نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کا تبدیل شدہ وائرس اومیکرون آئندہ ماہ تک یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 27رکن ممالک میں کورونا ویکسین میسر ہونے کے باوجود صورت حال بگڑ سکتی ہے۔ اومیکرون سے متاثرہ کیسوں کی تعداد ہر 3دن میں د گنا ہو رہی ہے اسی لیے جنوری کے وسط تک اومیکرون یورپ بھر پھیل جائے گا۔ ادھر عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اومیکرون ویرینٹ غیرمعمولی تیزی سے پھیل رہا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادہانوم نے جینیوا میں میڈیا بریفنگ میں کہا کہ 77 ممالک میں اومیکرون ویرینٹ کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اوراس بات کا امکان ہے ہے جن ممالک میں اومیکرون کی موجودگی کااعلان نہیں کیا گیا وہاں بھی یہ موجود ہو۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اومیکرون جس رفتارسے پھیل رہا ہے وہ اس سے پہلے کسی ویرینٹ میں نہیں دیکھی گئی۔ اگراومیکرون مہلک نہ بھی ہوتب بھی بڑی تعداد میں اومیکرون کیسز صحت کے نظام پربوجھ ثابت ہوں سکتے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق امریکا میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 8لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ بات جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد وشمار سے معلوم ہوئی ہے۔ کورونا کے سبب ہلاکتوں کے لحاظ سے امریکا سرفہرست ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے ان اعدادوشمار پر افسوس کرتے ہوئے مرنے والوں کے رشتہ داروں سے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے امریکیوں سے درخواست کی کہ وہ ویکسین لگوائیں۔ واضح رہے کہ امریکا کو اس وقت کورونا وائرس کی پانچویں لہر کا سامنا ہے ۔ دوسری جانب جرمنی کے ایک سینئر سیاستدان کو ویکسین لگوانے کی حمایت کرنے پر قتل کی دھمکیاں ملنے کے تناظر میں جرمن پولیس نے ڈریسڈن شہر میں چھاپے مارے ہیں۔ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ریاست سیکسنی کے وزیر اعلیٰ میشائل کریشمر کو ویکسین مخالف گروپ کی طرف سے دھمکیاں ملنے کے بعد کارروائی کی ہے۔ پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس گروپ کے بعض ارکان کے بیانات کے مطابق ان کے پاس واقعی ہتھیار موجود ہو سکتے ہیں۔ جرمنی میں لازمی طور پر ویکسین لگوانے کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے