واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک ) امریکی ایوان نمایندگان میں اسلامو فوبیا کے خلاف بل منظورکر کے نئی تاریخ رقم کردی گئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق ڈیموکریٹس نے 219 وو ٹ کے ساتھ اسلامو فوبیا کے خلاف بل کی حمایت کی جبکہ ری پبلکنز نے 212 ووٹ کے ساتھ اسلامو فوبیا کے خلاف بل کی مخالفت کی۔بل کے تحت ایک محکمہ بنایا جائے گا جو اسلامو فوبیا کے واقعات کی نگرانی کرے گا، لیکن اس سے پہلے بل کو قانون بنانے کے لیے امریکی سینیٹ میں بھیجا جائے گا۔یہ اقدام اس تناظر میں کیا گیا جب گزشتہ ماہ امریکی کانگریس کے مسلمان ارکان نے رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایوان نمایندگان کی رکن لورین بوبرٹ کی مذمت کی تھی جن کے اسلاموفوبیا پر مبنی ریمارکس منظرعام پرآئے تھے۔رکن کانگریس الہان عمرنے ٹوئٹ میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلامو فوبیا کے خلاف بل کا منظورہونا مسلمانوں کے لیے سنگ میل ہے۔ یہ امریکا سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے بڑی خبر ہے۔ انہوں نے کہا بل سے یہ پیغام گیا کہ اب اسلاموفوبیا کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ رکن کانگریس نے کہا کہ تعصب کے خلاف کھڑا ہونا کسی کو حملوں کا نشانہ بنا سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ قانون سازی کامیابی سے تمام مراحل طے کر لیتی ہے تو اس کے دور رس نتائج ملکی اور عالمی سطح پر ظاہر ہو سکتے ہیں۔ڈیموکریٹ جیمز میکگوورن کا کہنا تھا کہ مختلف سروے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا اور دنیا بھر میں مسلم مخالف جذبات میں اضافہ ہوا ہے اور یہ رجحان نامناسب ہے۔ ایسی صورت میں امریکا کا ردعمل انتہائی توانا ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ امریکی ایوانِ نمایندگان میں اس بل پر بحث کے دوران ریپبلکن رکن لورین بوبیرٹ نے الہان عمر پر نسلی تعصب اور اسلامو فوبیا کے جملے بھی کسے۔
