English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت سے مذاکرات کے بعد ‘گوادر کو حق دو’ تحریک کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان

گوادر کو حق دو تحریک کے رہنما مولانا ہدایت الرحمٰن نے مطالبات کی منظوری کی حکومتی یقین دہانی کے بعد گوادر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

گوادر سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد گزشتہ 32 روز سے سراپا احتجاج تھے۔ اس ضمن میں مظاہرین نے گوادر میں کیمپ لگا کر دھرنا دے رکھا تھا۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ گوادر کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ چیک پوسٹوں کو ختم کرتے ہوئے ماہی گیروں پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ مظاہرین سمندر میں ٹرالرز کے ذریعے شکار کی بندش کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ٹرالرز سے شکار سے مقامی ماہی گیر شدید متاثر ہو رہے ہیں جب کہ سمندری حیات کو بھی اس سے نقصان پہنچ رہا ہے۔

لوڈشیڈنگ کا خاتمہ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی بھی دھرنا دینے والوں کے مطالبات میں شامل تھے۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے جمعرات کو صوبائی وزرا کے ہمراہ مذاکرات کے لیے دھرنا عمائدین سے ملاقات کی۔ حکومت کی جانب سے مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی کے بعد مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

مذاکرات میں شریک صوبائی وزیر ترقی و منصوبہ بندی ظہور بلیدی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ وزیراعلیٰ کی موجودگی میں مولانا ہدایت الرحمٰن کے ساتھ ہونے والی بات چیت کامیاب رہی۔ ان کے بقول حکومت نے مولانا ہدایت کے تمام مطالبات منظور کر لیے ہیں جس کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مقامی میڈیا میں ‘گوادر کو حق دو تحریک’ کے مظاہروں اور ریلیوں کی کوریج کو اتنی کوریج نہیں مل سکی جس کا شکوہ مظاہرین بھی کرتے رہے ہیں۔

​مولانا ہدایت الرحمٰن نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ قومی میڈیا نے انہیں خبروں میں اس طرح جگہ نہیں دی مگر میڈیا کے تمام دوستوں نے سوشل میڈیا پر ‘حق دو تحریک’ کی بھرپور حمایت کی اور وہ ان سب کے مشکور ہیں۔

ان کے بقول حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے دھرنے کے شرکا کو اعتماد میں لیا ہے اور ان کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی۔

مولانا ہدایت الرحمٰن کے مطابق بلوچستان اور گوادر کے حقوق کے لیے تحریک کی جدوجہد جاری رہے گی اور حکومت سے ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کے معاملے پر بھی نظر رکھی جائے گی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے 12 دسمبر کو گوادر دھرنے کا نوٹس لیتے ہوئے ماہی گیروں کے جائز مطالبات کے حل کے لیے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

دھرنے کی قیادت جماعت اسلامی کے مقامی رہنما ہدایت الرحمٰن کر رہے تھے جن کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

مولانا ہدایت الرحمٰن پر ملک کے خلاف لوگوں کو جنگ پر اکسانے اور بغاوت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ اُن کا دھرنا آئینی، قانونی اور جمہوری حقوق کے لیے ہے۔

گوادر دھرنا: 'ہم سی پیک کے خلاف نہیں، اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں'





please wait



No media source currently available

اٹھائیس نومبر کو گوادر میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اور دیگر حقوق کے حصول کے لیے ہزاروں خواتین نے بھی ریلی نکالی تھی۔ خواتین کی اس ریلی کو شہر میں نکالی جانے والی سب سے بڑی ریلی قرار دیا گیا تھا۔

منتظمین کا دعویٰ تھا کہ ‘گوادر کو حق دو’ کے نام سے نکالی گئی اس ریلی میں 15 ہزار کے لگ بھگ خواتین اور بچوں نے شرکت کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے