اسلام آباد:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ افغانستان کو تنہا چھوڑنا کسی کے مفاد میں نہیں، افغان صورت حال پر قابو پانے کیلئے افغانستان کی مدد کیلئے آگے بڑھنا ہوگا ،صورت حال پر قابو نہ پایا گیا توبیس سال سے استحکام اور امن و امان کیلئے کی گئی کوششیں خاک میں مل جائیں گی۔
وزیر خارجہ کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں سابقہ خارجہ سیکرٹریز، سفراءاور حکومتی ترجمانوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں 19 دسمبر کو منعقد ہونے والے، او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا ، وزیر خارجہ نے او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس کے مقاصد اور افغانستان کی صورتحال پر شرکاءکو بریفنگ دی ۔
شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اجلاس کا مقصد لاکھوں افغانوں کو درپیش انسانی بحران کے تدارک اور انسانی بنیادوں پر ان کی معاونت کی جانب عالمی برادری کی توجہ دلانا ہے، پاکستان کی افغانستان کے امن و امان اور انخلاءسے متعلق کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔
انہوں نے کہاکہ 15 اگست کے بعد ہم نے افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک کو اعتماد میں لیا، افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک کا پہلاا اجلاس پاکستان، دوسرا تہران میں ہوا جبکہ تیسرا اجلاس چین میں متوقع ہے۔
وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم نے مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل اور علاقائی روابط کے فروغ کو مد نظر رکھتے ہوئے علاقائی ممالک کے ساتھ رابطہ کیا، اب افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک کا ایک پلیٹ فارم قائم ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہماری کاوشیں بار آور ثابت ہو رہی ہیں ، عالمی برادری نے افغانستان کی طرف توجہ دینا شروع کر دی ہے ، آج دنیا سمجھتی ہے کہ افغانستان کو تنہا چھوڑنا کسی کے مفاد میں نہیں، عالمی برادری انسانی بنیادوں پر افغانستان کی معاونت کیلئے آمادہ دکھائی دیتی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہاکہ عالمی برادری کے کچھ تحفظات ہیں جس میں افغانستان میں انسانی بنیادی حقوق کی پاسداری، دہشت گردی سے تحفظ اور محفوظ انخلاء جیسی شرائط شامل ہیں، 21 اکتوبر کو میں نے اپنے دورہ کابل کے دوران افغان عبوری قیادت پر واضح کیا کہ دنیا کو آپ کے ساتھ کچھ توقعات وابستہ ہیں جس کیلئے آپ کو گنجائش پیدا کرنا ہو گی۔

