English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان افغان عوام کی ہر ممکن طریقے سے مدد کرے گا، وزیراعظم

القمر

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان انسانی بحران سے بچنے کے لیے افغانستان کی ہرممکن مدد کرے گا اور جنگ زدہ ملک سے رابطہ ختم کرنا دنیا کے لیے ‘خطرناک’ ہوگا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے ایپکس کمیٹی برائے افغانستان کے دوسرے اجلاس کی صدارت کی اور ان خیالات کا اظہار کیا۔

بیان کے مطابق اجلاس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراطلاعات ی فواد چوہدری، وزیر داخلہ شیخ رشید احمد ، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، وزیراعظم کے مشیر خزانہ شوکت ترین، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور سینئر سول و عسکری عہدیداروں نے شرکت کی۔

اجلاس سے متعلق کہا گیا کہ ‘وزیراعظم نے امید کا اظہار کیا کہ دنیا افغانستان سے رابطہ نہ رکھنے کی غلطی نہیں دہرائے گی اور عالمی برادری کو افغانستان کے غربت زدہ عوام کی مدد کرنے پر زور دیا’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘پاکستان انسانی المیے سے بچنے کے لیے افغان عوام کی ہر ممکن طریقے سے مدد کرے گا’۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے اس بات کو نمایاں کیا کہ پاکستان پہلے ہی 5 ارب روپے کی امداد فراہم کرنے کا عزم ظاہر کرچکا ہے، جس میں غذائی اجناس اور ہنگامی بنیاد پر طبی اشیا شامل ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس کے بیان کے مطابق کمیٹی کو وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق زمینی سرحد کے ذریعے افغانستان سے پاکستان داخل ہونے والے تمام افغانوں کے لیے مفت کووڈ-19 ویکسینیشن کی سہولت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ افغانستان کےشہریوں کو پاکستان کا ویزہ حاصل کرنے کا عمل آسان تر بنایا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے عہدیداروں کو فلاحی اداروں کی پاکستان سے افغانستان میں امدادی کوششوں کی خواہش پر سہولت دینے کی ہدایت کی، جس سے متعلق ‘پاکستان پہلے ہی فضائی اور زمینی سہولت فراہم کرنے کا عہد کر چکا ہے’۔

ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے شرکا نے افغانستان میں بگڑتی انسانی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان ضرورت کے اس موقع پر انہیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘اتوار کو پاکستان میں اس امتحان کے وقت میں افغان عوام کی مشکلات کو اجاگر کرنے اور ان کی مدد کرنے کے طریقوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کے لیے اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایک غیرمعمولی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے’۔

خیال رہے کہ افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کے دورہ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے یقین دلایا تھا کہ پاکستان ہر ممکن مدد فراہم کرےگا۔

انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان مشکل وقت میں ہمیشہ افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے قائم مقام افغان وزیر خارجہ امیرخان متقی اور ان کے وفد کو یقین دہانی کروائی ہےکہ افغانستان کو ہرممکن انسانی امداد فراہم کریں گے‘۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ’افغان عوام کےفوری ریلیف کے لیے ہم ضروری اشیائےخورونوش، ہنگامی طبی لوازمات اور سرما کی شدت سے بچاؤ کے لیے خیمے بھجوا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ عالمی برادری سے میری ایک مرتبہ پھر درخواست ہے کہ افغانوں کو درپیش اس بڑے انسانی بحران کے تدارک کےحوالے سے اپنی اجتماعی ذمہ داری پوری کرے۔

وزیر اعظم کا تجاوزات میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم

وزیر اعظم عمران خان نے حکومت پنجاب کو ہدایت دی ہے کہ تجاوزات اور غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیرات میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

راوی اربن ڈیولپمنٹ اور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ لاہور منصوبے سے متعلق اجلاس کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے منصوبوں کی تعمیر کے لیے اسمارٹ درخت، بلیو روڈ، اور توانائی کے لحاظ سے مؤثر ماحول دوست مواد کے استعمال پر زور دیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے دونوں منصوبوں کو لاہور اور ملک کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیا اور آلودگی کے خاتمے کے لیے تمام شہروں میں گرین اربنائزیشن ماڈل بنانے کا حکم دیا۔

انہوں نے کہا کہ مذکورہ ترقیاتی منصوبے عوام کے معاشی و سماجی حالات میں بہتری کےلیے معاون ثابت ہوں گے۔

اس سلسلے میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ’گرین اربنائزیشن منصوبہ آلودگی کے منفی اثرات ختم کرنے میں مدد کرے گا، اس لیے اس طرح کے ماڈلز تمام شہروں میں بنانے چاہیے‘۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نئے منصوبوں میں سرسبز مقامات کی تعمیر اور شہری علاقوں میں اس کی حفاظت ضروری ہے تاکہ اسموگ سمیت آلودگی کے دیگر اثرات سے نمٹا جاسکے۔

انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ وہ راوی ریور فرنٹ اور بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے سے متعلق زمین کی منتقلی پر تیزی سے کام کریں۔

وزیر اعظم نے مزید روز دیتے ہوئے کہا کہ یہ شہری ترقیاتی منصوبے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے شروع کیے گئے ہیں، لہذا اس پر سیاسی وجوہات کی بنا پر تنقید نہیں ہونی چاہیے۔

اس سے قبل اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ دونوں منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور زمین کے حصول کا کام بھی تقریباً مکمل ہونے والا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پہلے سال میں سی ڈی بی میں ایک کھرب روپے کی سرمایہ کاری کی توقع ہے جبکپ راوی ریور فرنٹ اسکیم کے ماسٹر پلان میں ایک ہزار 900 کم لاگت کے ہاؤسنگ یونٹس کو شامل کیا گیا ہے۔

ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری، وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ شوکت ترین، وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین ریٹائرڈ لفٹیننٹ جنرل انور علی حیدر اور پنجاب کے چیف سیکریٹری نے شرکت کی۔

بعدازاں وزیر اعظم عمران خان نے سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) کے چیئرمین احسن اظفر سے بھی ملاقات کی، اس دوران وزیر اعظم نے ان سے بی او آئی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے تقرر کے لیے تجویز بھی طلب کی۔

وزیر اعظم نے ڈائریکٹرز کے تقرر کے طریقہ کار تجویز کیے اور بریفنگ کے دوران زیر بحث تمام اقدامات پر عمل درآمد کی ہدایت کی۔

علاوہ ازیں وزیر اعظم کو بی او آئی میں کی جانے والی اصلاحات اور اس کی تنظیم میں نو کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے