فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سابق چیئرمین شبر زیدی نے کہا ہے کہ ملک بڑا اچھا چل رہا ہے، ہم نے بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے اور ہم تبدیلی لے آئے، یہ سب غلط ہے، میرے حساب سے ملک دیوالیہ ہوچکا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اکاؤنٹنگ کی اصطلاح میں ملک دیوالیہ ہوچکا۔ شبر زیدی کا کہنا تھاکہ جب آپ یہ طے کرلیں کہ ہم دیوالیہ ہوچکے ہیں اور اس سے آگے ہمیں چلنا ہے، یہ زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ آپ کہیں کہ ملک اچھا چل رہا ہے، میں یہ کردوں گا، میں وہ کردوں گا، یہ سب لوگوں کو دھوکا دینے والی باتیں ہیں۔واضح رہے کہ شبر زیدی پی ٹی آئی حکومت میں مئی 2019 تا اپریل 2020 فیڈرل برانچ آف ریونیو کے چیئرمین رہ چکے ہیں ۔
یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت کے قریب جانے جانے والے صحافی کامران خان بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کو FATF کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے، ہمیں IMF سے قرضہ نہیں مل رہا کیونکہ ہمارے سامنے جو شرائط رکھی جا رہی ہیں، وہ اس حد تک شرمناک ہیں کہ انہیں قبول کرنا ہمارے جیسی معیشت کے لئے بھی مشکل ہو رہا ہے۔ پھر ہمیں مجبوراً سعودی عرب کے پاس جانا پڑا اور انہوں نے ہمیں صرف رقم اپنے بینک میں رکھنے کے لئے دی مگر اس کے لئے بھی شرائط ایسی عائد کر دی ہیں کہ محض معاہدے کے سامنے آنے والے مندرجات دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان نے چین کے کہنے پر امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے بلائی گئی جمہوریت کی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا لیکن دوسری جانب چین ہے جو ہمیں اتنی شدید مشکلات میں دیکھ کر بھی نہ تو ہمیں کوئی مالی امداد دینے کو تیار ہے، نہ ہی چین پاکستان اقتصادی راہداری کے لئے کیے گئے معاہدوں میں کوئی رد و بدل کرنے کے لئے آمادہ ہے۔
کامران خان نے یاد دلایا کہ پاکستان کی معیشت پوری طرح سے مغرب پر منحصر ہے۔ FATF سے نکلنا ہے تو اس کے لئے بھی امریکی اور یورپی آشیرباد چاہیے ہوگی اور IMF سے قسط لینی ہے یا دنیا کے دیگر بڑے مالیاتی اداروں سے قرض لینا ہے تو وہ بھی امریکہ کی آنکھ کے ایک اشارے سے ممکن ہو سکتا ہے لیکن بجائے ان طاقتور ممالک کے ساتھ نظر آنے کے، پاکستان نے اپنی قسمت کی ڈور چین کے ہاتھ میں دے دی ہے جو کہ ہماری بنیادی ضروریات کے حوالے سے بھی ہاتھ پکڑانے کو تیار نہیں۔ سینیئر صحافی نے وزیر اعظم عمران خان کے امریکی کانفرنس میں نہ جانے کے فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے واشگاف الفاظ میں غلط قرار دیا اور کہا کہ امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جس کے ساتھ ہماری برآمدات ہماری درآمدات سے زیادہ ہیں لیکن ہم ایسے دوست کا ساتھ چھوڑ کر چین کا ہاتھ تھامے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان کا چین کے ساتھ تجاری توازن کبھی پاکستان کے حق میں نہیں ہو سکتا۔
شبر زیدی کی گفتگو کا فوکس ہی اس بات پر تھا کہ ملک کی سیاسی قیادت حقائق سے صرف نظر کرتے ہوئے نہ مسائل کو سمجھ پارہی ہے اور نہ ہی ان کے حل کے لئے ضروری اقدامات کرنے پر تیار ہے۔ ان کی اس گفتگو پر اگر انہیں کسی قسم کی پریشانی لاحق ہوئی ہے تو تحریک انصاف کے سابق ’ونڈر بوائے‘ کے طور پر انہیں سوچنا چاہئے کہ اگر ان جیسا ماہر اقتصادیات و مالیات بھی حقیقی معاشی صورت حال کے بارے میں آسان لفظوں میں ملک کے عام شہری کو مسائل سے آگاہ نہیں کرسکتا تو پھر ان مسائل پر مکالمہ کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے کے کام کا آغاز کیسے ہوسکے گا؟
شبر زیدی کی شکایت ہے کہ دیوالیہ ہوجانے کے بعد اس صورت حال کو تسلیم کرکے ہی آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے سیاسی رویہ تبدیل کرنے کی رائے دی ہے لیکن اپنی باتوں کے عام ہوجانے کے بعد ’ غلط رپورٹنگ‘ کا شوشہ چھوڑ کر خود ہی اپنی پوزیشن کو کمزور بھی کیا ہے۔ تاہم شبر زیدی بھی اس بات سے بخوبی آگاہ ہوں گے کہ ان کے انحراف سے نہ تو پاکستان کا مالی خسارہ کم ہوجائے گا، نہ قرضوں کی صورت حال تبدیل ہوگی اور نہ ہی معیشت کی تعمیر نو کا کام شروع ہوسکے گا۔ الجھے ہوئے سیاسی اور معاشی ڈھانچے میں شبر زیدی جیسے ماہرین کو حوصلہ مندی سے پروفیشنل انداز میں بات کرنی چاہئے اور پھر اس پر قائم رہتے ہوئے مزید دلائل سامنے لانے چاہئیں۔
اسی طریقہ سے ایک جمہوری سیٹ اپ میں عوامی رائے کو ایک غلط اور گمراہ کن سیاسی رویہ سے نجات دلانے کے کام کا آغاز ہوسکتا ہے۔ شبر زیدی کے بیان کردہ مسائل سے اتفاق و اختلاف کی گنجائش ہوسکتی ہے اور ان کے تجویز کردہ حل بھی ایک خاص مزاج کے عکاس ہوسکتے ہیں لیکن ہمدر د یونیورسٹی کے لیکچر میں انہوں نے ایک ماہر معیشت کے طور پر بات کی تھی ۔ تاہم اس لیکچر کی رپورٹنگ کو عذر بنا کر اپنے مؤقف سے انحراف کی کوشش میں انہوں نے مسائل کی نشاندہی اور حل تلاش کرنے کی اجتماعی کوششوں کے تصور کو نقصان بھی پہنچایا ہے۔ اس طرز عمل کا یہ نقصان بھی ہوگا کہ جو ماہرین اور مسائل سے آگاہی رکھنے والے لوگ شبر زیدی جیسے اسٹیٹس یا پوزیشن کے حامل نہیں ہیں، وہ یا تو غلطیوں کی نشاندہی سے گریز کریں گے یا گمراہ کن تبصروں سے معیشت کی سہانی تصویر بنانے کی ناقص کوششوں کاحصہ بن کر اپنی ’ذمہ داری‘ سے سبکدوش ہونے کی کوشش کریں گے۔
ہفتہ، 18 دسمبر 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post کیا پاکستان دیوالیہ ہوچکا ہے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.
