صوبائی وزیر جامعات، بورڈز اور ماحولیات محمد اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے صوبائی موسمیاتی تبدیلی پالیسی بنانے کا ڈرافٹ تیار کرلیا ہے۔ تمام صنعتکاروں اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کرلی ہے, کابینہ سے منظوری کے بعد صوبے میں لاگو کی جائے گی۔
سندھ اسمبلی بلڈنگ میں پریس کانفرنس سے محمد اسماعیل راہو کا کہنا تھاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمیں مثبت تبدیلیاں لانی ہوں گی, یہ طے ہوا ہے کہ ترقی یافتہ ملک دیگر ممالک کی مدد کریں گے، گرین ہاو س گیس کا پینتیس فیصد روس، چین اور بھارت پیدا کرتا ہے اور درمیان میں ہونے کے باعث پاکستان پر اس کے اثرات ہیں۔
وزیر ماحولیات کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے میںتین موسماتی زون ہیں، ایک ہزار میں ساڑھے تین سو کلو میٹر ساحلی پٹی سندھ کے پاس ہے،ساحلی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے بہت نقصانات سامنے آ ئے ہیں۔ اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ سندھ میں پانی کی کمی کے باعث سمندر کئی ہزار ایکڑ زمین نگل چکا ہے، اس زمین پر زراعت اور لائیو اسٹاک ختم ہوگئی ہے،ہمیں ہمارے حصے کا پانی نہیں دیا جارہا جس کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے, ہمارے اہداف پورے نہیں ہوسکتے جب تک تمام صوبوں کو ساتھ نہیں لیا جاتا،عمران حکومت کا بلین ٹری منصوبہ کاغذوں کے نظر ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں سے نکلنے والے فضلہ کو درست طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے پانچ سرکاری ہسپتالوں میں انسیلیٹر ( incillators ) لگائے گئے ہیں جبکہ دیگر طبی مراکز میں بھی اس طریقے کو اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی یونٹس سے نکلنے والے فضلہ کی بھی اسٹڈی کرائی جا رہی ہے تاکہ اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کیے جاسکیں ، کراچی میں 250 دھواں نکالنے والی صنعتی یونٹس کا سروے کیا گیا ہے اور 200ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگ چکے ہیں جبکہ 55آخری مراحل میں ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں یہ پوری دنیا کو درپیش چیلنجز میں سے ایک ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو 2030 تک میتھین گیسو ں کے اخراج کو 30 فیصد کم کرنے کا ہدف درپیش ہے جس کے لیے وفاقی حکومت کوصوبوں کے ساتھ مشاورت کرنا ضروری ہے کیونکہ صلاح ومشورے کے بغیر لائی جانے والی پالیسی پورے ملک پر یکساں اور بھرپور طریقہ سے لاگو نہیں ہو سکتی۔ سندھ میں 350 کلو میٹر لمبی ساحلی پٹی پر ماحولیاتی تبدیلی کا عنصر دیگر صوبوں کے مقابلے میں مختلف ہے۔

