English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی میں دھماکا ، 16 افراد جاں بحق ، 16 زخمی

کراچی:نالے پر تعمیر نجی بینک میں دھماکے بعد رضاکار امدادی سرگرمیوںمیں مصروف ہیں

کراچی( اسٹاف رپورٹر)کراچی کے علاقے شیر شاہ میں ہونے والے دھماکے میںتحریک انصاف کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان کے والد سمیت15 افراد جاں بحق اور 16زخمی ہوئے ،2 کی حالت تشویشناک ہے،دھماکے سے نجی بینک کی عمارت مکمل تباہ ہو گئی، وزیر
اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو انکوائری کرنے کا حکم دے دیا۔پولیس کے مطابق سائٹ اے تھانے کی حدود میں دھماکا شیر شاہ پراچہ چوک پر ہوا،دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز کئی کلو میٹر دور تک سنی گئی جبکہ متعدد گاڑیاں اور دکانیں تباہ ہوگئیں،دھماکے سے نجی بینک کی عمارت تباہ و دیگر قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔جائے وقوعہ پر بھاری مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔دھماکے کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچے اور شواہد اکٹھے کیے۔پولیس کا کہنا ہے کہ 2 منزلہ عمارت نالے پر تعمیر کی گئی تھی، عمارت میں بینک اور دیگر دفاتر موجود تھے، عمارت کا کچھ حصہ گرنے کے بعد ملبے کے نیچے مزید لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ بھی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکا ممکنہ طور پر نالے میں گیس بھرنے کے باعث ہوا تاہم دھماکے کی نوعیت کا تعین بم ڈسپوزل اسکواڈ کی رپورٹ کے بعد کیا جائے گا۔ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی)ساؤتھ شرجیل کھرل نے میڈیا کو بتایا کہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،اب تک کی رپورٹ کے مطابق دھماکا گیس لیکج سے ہوا، پہلی ترجیح جانیں بچانا ہے، متاثرہ عمارت میں بینک قائم تھا۔سربراہ ٹراما سینٹر صابر میمن کا کہنا ہے کہ 15 لاشیں لائی گئی ہیں، 8 زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا جبکہ 6 زخمی زیر علاج ہیں اور 2 وینٹی لیٹر پر ہیں،تمام زخمیوں کے جسم کے اوپری حصے پر چوٹیں آئی ہیں۔پولیس نے اپنے ابتدائی بیان میں دھماکے میں تخریب کاری یا دہشت گردی کے عنصر کو رد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ حادثاتی طور پر گیس پائپ لائن میں ہوا اور دھماکے سے متاثر ہونے والا نجی بینک نالے پر قائم کیا گیا تھا۔ترجمان کراچی پولیس کے مطابق ابتدائی طورپر دھماکا گیس پائپ لائن پھٹنے سے ہوا، گیس پائپ لائن نالے کے نیچے سے گزر رہی تھی اور دھماکا نالے میں گیس بھرنے سے ہوا تاہم حتمی طور پر کہنا قبل ازوقت ہے کہ دھماکا کسی تخریب کاری کا نتیجہ ہے یا حادثاتی طور پرہواہے۔بم ڈسپوزل اسکواڈ حکام کے مطابق دھماکا نالے میں گیس بھر جانے کی وجہ سے ہوا ، واقعے میں دہشت گردی سمیت کسی قسم کی تخریب کاری کے شواہد ابھی تک نہیں ملے۔سندھ رینجرز کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سندھ رینجرز کے جوان موقع پر پہنچے اور جائے حادثہ کی جگہ کو کارڈن آف کیا۔دھماکے کی اطلاع کے بعد سوئی سدرن گیس انتظامیہ کی ٹیم بھی جائے وقوعہ پہنچی اور سوئی سدرن حکام نے گیس پائپ لائن کا جائزہ لینے کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ٹیکنیکل اسٹاف کے مطابق دھماکے کے قریب کوئی گیس پائپ لائن نہیں۔ سوئی سدرن کے مطابق جائے وقوعہ پر گیس کے آثار بھی نہیں اور علاقے کی گیس سپلائی بھی نارمل ہے، دھماکے کو سوئی سدرن پائپ لائن سے نہیں جوڑا جاسکتا۔کے ایم سی ذرائع کا کہنا ہے کہ جہاں نالہ گزر رہا ہے وہاں بینک قائم تھا،جس مقام پر دھماکاہوا وہاں نیچے 5 سے 6 فٹ چوڑا نالہ ہے ۔ کے ایم سی کیماڑی کے حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نالے میں دھماکا کیمیکل پانی کی گیس بھرنے سے ہوا ہے اور اس نالے میں سائٹ ایریا کی فیکٹریوں سے کیمیکل والا پانی گرتا ہے۔حکام کے مطابق 14 فٹ کا یہ نالہ سائٹ ایسوسی ایشن کی حدود میں آتا ہے،شیرشاہ نالے کی گزشتہ کئی سال سے صفائی نہیں ہوئی جب کہ نالے کی صفائی سائٹ ایسوسی ایشن ہی کی ذمے داری ہے ۔کے ایم سی حکام نے بتایا کہ 20 کلو میٹر طویل اور 14فٹ چوڑا یہ نالہ لیاری ندی تک جاتا ہے، شیرشاہ نالے پر مکانات اور دیگر تجاوزات بھی قائم ہیں، تقریباً ایک کلو میٹر کے علاقے میں نالہ ایک انچ جگہ پر بھی کھلا ہوا نہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نالے پر تعمیر کی گئی بیشتر عمارتیں 6 منزلہ ہیں،جن سے لاکھوں روپے کرایہ وصول کیا جاتا ہے ۔ڈپٹی کمشنر کیماڑی کا کہنا ہے کہ اینٹی انکروچمنٹ ایکٹ کے تحت ان تعمیرات کو نوٹس جاری کیے گئے تھے۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شیر شاہ دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو انکوائری کرنے کا حکم دے دیا۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ انکوائری میں پولیس افسران بھی شامل کیے جائیں تاکہ ہر پہلو سے چھان بین ہو سکے ۔انہوں نے سیکرٹری صحت کو سول اسپتال میں فوری ضروری سہولیات دینے کی ہدایت کی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے