ویانا (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران اور عالمی قوتوں کے مابین ویانا میں جاری مذاکرات ایک با رپھر تعطل کا شکار ہو گئے ۔ ایرانی مذاکرات کار مشاورت کے لیے جمعہ کی شب تہران روانہ ہو گئے، جس پر یورپی سفارت کاروں نے ناراضی کا اظہار کیا ۔ یورپی ممالک کے نمایندوں کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ 2015 ء کے سمجھوتے کو بچانے کے لیے وقت ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ تہران حکومت کے مذاکرات کاروں نے چند نئے مطالبات سامنے رکھے ہیں ، جس پر امریکی و یورپی سفارت کار خوش نہیں۔ البتہ بات چیت میں تکنیکی سطح پر پیش رفت ہوئی ہے۔ ویانا میں بات چیت کا یہ دور 29نومبر سے جاری ہے اور اب تک فریقین کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق یورپی یونین کے سفارت کاروں نے ایران سے جوہری معاہدے کوفوراً بچانے کے اپیل کی ہے۔ انہوں نے جوہری مذاکرات کے التوا کو مایوس کن قرار دیا۔ یورپی یونین کے نمایندے ایریک مورا نے ایران جوہری مذاکرات کے ساتویں دور کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا مذاکرات ملتوی کیا جانا مایوس کن ہے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سفارت کاروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایرانی حکام نے بات چیت کو ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔تاہم بیان میں واضح نہیں کیا گیا کہ مذاکرات کو ملتوی کرنے کی ایران کی درخواست کی وجہ کیا ہے۔دوسری جانب ویانا میں ایران کے مذاکرات کار علی باقری کنی کا کہنا تھاکہ اگر ایران کے مطالبات کو تسلیم کرلیا جائے تو اگلے دور کی بات چیت نتیجے خیز ثابت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران جلد مذاکرات میں واپس آئے گا، تاکہ ان میں تیزی لائی جا سکے۔ مذاکرات میں شامل چینی سفارت کار وان کن کا کہنا تھاکہ مذاکرات کے شرکابات چیت جلد شرو ع کرنا چاہتے ہیں ،تاہم اس کے لیے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ ممکنہ طور پر 27 دسمبر کو دوبارہ ویانا میں تمام فریق جمع ہوسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ان مذاکرات کا مقصد امریکا اور ایران کو اس معاہدے میں واپس لانا ہے جس سے 2018 ء میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طورپر علاحدگی اختیار کر لی تھی۔
