اسلام آباد( نمائندہ جسارت+آن لائن + صباح نیوز+اے پی پی) پاکستان میں اسلامی تعاون کی تنظیم کے غیر معمولی اجلاس کے دوران افغانستان کے اقتصادی اور انسانی بحران سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔او آئی سی اجلاس میں افغانستان کے لیے ٹرسٹ فنڈ قائم کرنے اور نمائندہ خصوصی مقرر کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس موقع پر اسلامی ترقیاتی بینک کی جانب سے بھی افغانستان کے لیے خصوصی اکاؤنٹ کھلونے کااعلان کیا گیا۔ او آئی سی کے رکن ممالک نے امت مسلمہ سمیت عالمی برادری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے بہتر مستقبل کے لیے عالمی برادری کو آگے بڑھنا ہو گا ،او آئی سی وزرائے خارجہ کو مل کر کابل کا دورہ کرنا ہو گا،او آئی سی کی چھتری تلے ہم مل کر مشترکہ اقدام کر سکتے ہیں، افغان بھائیوں بہنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہمارا فرض ہے گا، طے کریں کہ افغانستان دوبارہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جا ئے گا یا وہاں کے عوم کو عزت ملے گی،افغانوں کی مدد کرنا سب کی ذمے داری ہے، فلسطین کے معاملے کی حل کے بغیر امن نہیں ہو سکتا۔ واضح رہے کہ پاکستان 40 سال بعد اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس سے قبل 1980ء میں جب پاکستان میں یہ اجلاس منعقد ہوا تھا تب بھی توجہ کا مرکز افغانستان ہی تھا۔اوآئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 41 سال بعد او آئی سی کا اجلاس پاکستان میں ہو رہا ہے، معزز مہمانوں کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ جتنی مشکلات افغانوں نے اٹھائیں کسی اور ملک نے نہیں اٹھائیں، کسی بھی ملک کو افغانستان جیسی صورتحال کا سامنا نہیں رہا، افغانستان 4 دہائیوں سے خانہ جنگی کا شکار رہا ہے، اور وہاں کے حالات کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا اور پاکستان ہی متاثر ہوا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے جان کی قربانی دی۔عمران خان کے بقول غیر مستحکم افغانستان کسی کے مفاد میں نہیں ،دنیا نے اقدامات نہ کیے تو افغانستان میں بہت بڑا انسانی بحران پیدا ہوگا،براہ راست امریکا سے مخاطب ہوں کہ وہ طالبان حکومت کو4کروڑ افغان شہریوں سے الگ کرکے دیکھے، اگر ان کا طالبان کے ساتھ 20سال جھگڑا بھی رہا ہے تو یہ اور بات ہے تاہم یہ اب افغانستان کے لوگوں کا سوال ہے اور4کروڑ انسانوں کا معاملہ ہے اور فوری طور پر ایکشن لینا ہوگا، ہم دو تین ماہ سے کہہ رہے ہیں کہ فوری طور پر ایکشن لینا چاہیے اور اگر فوری طور پر ایکشن نہ لیا گیا تو افغانستان غیر یقینی صورتحال اور افراتفری کی جانب بڑھ رہاہے۔ ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش او لونے افغانستان میں کسی بھی انسانی المیہ اور بحران کو روکنے کے لیے بھرپور کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کو اس ضمن میں قائدانہ کردار ادا کرکے عالمی برادری کو فعال کردار ادا کرنے پر آمادہ کرنا چاہتے۔ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں پاکستان، او آئی سی اور اسلامی ترقیاتی بینک کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعودنے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے لیے ایک ارب ریال امداد دینے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی اجلاس کے انعقاد اور بہترین انتظامات پر پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستان نے کم وقت میں اجلاس کا انعقاد کیا، اہم ترین اجلاس کے انعقاد پر پاکستان کے شکرگزار ہیں، اجلاس میں شرکت پر او آئی سی سیکرٹری جنرل اور دیگر کے شکر گزار ہیں، اس کانفرنس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے،افغانستان کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر دیکھنا ہوگا، افغانستان میں خواتین، بچوں سمیت افغان عوام مشکلات کا شکار ہیں، افغانستان میں معاشی بحران مزید خراب ہو سکتا ہے۔اجلاس میں شامل ہونے والے او آئی سی رکن ممالک، غیر ملکی اور علاقائی وفود کی تعداد 70 کے قریب ہے، جن میں سے 20 وفود وزارتی سطح اور 10نائب وزرا کی سطح کے شامل ہوئے ہیں۔اس بار اجلاس میں یکے بعد دیگر تمام تر وزرائے خارجہ اور اقوامِ متحدہ کے انڈر سیکرٹری نے افغانستان کی بگڑتی صورتحال کا فوری لیکن دیرپا حل نکالنے پر زور دیا۔ اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل حِسین براہیم طہٰ نے کہا کہ افغانستان کی ضروریات پوری کرنے اور اس بات کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ خطے میں دہشت گردی دوبارہ سر نہ اٹھائے۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے انسانی امداد اور کوآرڈینیشن کے انڈر سیکرٹری جنرل مارٹن گریفیتھ نے کہا کہ دنیا افغانستان میں تباہی ہوتے دیکھ رہی ہے اور اگر جلد کچھ نہ کیا گیا تو وہاں ہونے والے معاشی و انسانی بحران کو نہیں روکا جاسکے گا۔ اس سے قبل وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان کی جانب سے افغان عوام کی مدد کے لیے 6 نکات پیش کیے۔ پیش کردہ نکات کے مطابق او آئی سی ممالک کو فوری طور پر افغان عوام کی مدد کرنا ہوگی۔ پاکستان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں تعلیم، صحت اور تکنیکی شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی، اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ اور او آئی سی کا گروپ بناکر افغانستان کو جائز بینکنگ سہولیات تک رسائی میں مدد دینی ہوگی۔جاری حکمت عملی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان عوام کی خوراک کی فراہمی اور فوڈ سیکورٹی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، انسداد دہشت گردی و منشیات کے خاتمے کے لیے افغان اداروں کی استعداد کار بڑھائی جائے۔نکات کے مطابق افغانستان میں انسانی حقوق، خواتین و لڑکیوں کے حقوق کے لیے افغان حکام کو مصروف کیا جائے، اس کے علاوہ افغانستان میں دہشت گردی کی روک تھام کے لیے افغان حکام سے مل کر کام کیا جائے۔

