اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ڈاک خانوں کے متعلق کمیٹی اراکین کی جانب سے پوچھے گئے سوالات پر ڈی جی پاکستان پوسٹ کمیٹی اراکین کو مطمئن نہ کرسکے کمیٹی ممبران نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے جبکہ سندھ کے اضلاع میں پاکستان پوسٹ کے آفسز کی کارگردگی کی تفصیل طلب کر لی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئر سید ایاز علی شاہ شیرازی کی زیرصدارت ہوا، اجلاس میں سندھ کے ڈسٹرکٹ سجاول میں ڈاک خانوں کے حوالے سے اراکین کمیٹی نے سوالات پوچھے رکن قومی اسمبلی رمیش لال نے اس متعلق بات کرتے ہوئے کہ پاکستان پوسٹ کے افسران دفاتر سے نکلتے نہیں، انکو وہاں کے علاقوں تک کا نہیں پتہ کارگردگی نہ ہونے کے برابر ہے جس پر ڈی جی پاکستان پوسٹ نے کہا کہ میں نے سندھ کے تمام افسران کو شہریوں کی شکایت دور کرنیکی ہدایت کی ہے آپکو جلد تبدیلی نظر آئیگی آپکے ڈاک خانے کااسٹاف لوگوں سے بات کرنے کوتیار نہ ہوگا تو لوگ وہاں کیوں جائیں گے۔
کنوینئر کمیٹی سید ایاز علی شاہ شیرازی نے کہا کہ آپکے ایجنڈے پر ایک علاقے کا پوسٹ آفس تھا آپ اس پر بھی مکمل طور پر تیاری کرکے نہیں آئے،ہم نے میٹنگ ٹی اے ڈی اے لینے یا آپکو ملنے کیلئے نہیں بلائی، آپکو اس میٹنگ کیلئے کم سے کم تیار ہوکر آنا چاہیے تھا،جس پر ڈی جی پاکستان پوسٹ نے کہا کہ وہاں پوسٹ آفسز خسارے میں جا رہے ہیں کمرشل ایکٹویٹی زیادہ نہیں ہے، ڈسٹرکٹ سجاول میں پوسٹ آفس اراضی پر قبضہ بھی ہورہا ہے اس حوالے سے کیا معلومات ہیں آپکی؟ ڈی جی پاکستان پوسٹ کمیٹی اراکین کو مطمئن نہ کرسکے اراکین کمیٹی کا ڈی جی پاکستان پوسٹ پر برہمی کا اظہار کیا ہے کنوینئر کمیٹی سید ایاز علی شاہ شیرازی نے اگلے اجلاس میں سجاول، ٹھٹھہ، شہداد کوٹ اور لاڑکانہ پوسٹ آفسز پر تفصیلی بریفنگ مانگ لی۔

