انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) تُرک صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے انقلابی اقدام کے باعث ملکی کرنسی لیرا کی قدر میں 20فیصد اضافہ ہوگیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق صدر اردوان نئے مالیاتی نظام کا اعلان کرتے ہوئے بینکوں میں پڑے ترک لیرا کی قدروقیمت کی ضمانت دی،جس کے بعد چند گھنٹوں میں لیرا کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں 20فیصد سے زائد کا اضافہ ہوگیا۔ اس اعلان کے بعد ڈالر ترک لیرا کے مقابلے میں گر کر 12.90 ، جب کہ یورو 14.60 پر آگیا۔ ترک صدر نے کہا تھا کہ انقرہ اب درآمدات پر انحصار نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے افراطِ زر کی زیادہ شرح اور کرنسی کے نرخوں میں تیزی سے آنے والی کمی کو روکنے کے لیے انقلابی اقدامات کا اعلان کیا ۔ اپنے بیان میں انہوں نے شرح سود میں اضافے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں وہ کروں گا جو دین کہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سے شرح سود میں اضافے کی کوئی امید نہ کی جائے ، کیوں کہ ایک مسلمان ہونے کے ناتے میں اسلامی تعلیمات کے تحت کام کرتا رہوں گا۔ واضح رہے کہ ترکی کی کرنسی لیرا میں گراوٹ کے تناظر میں ترک صدر سے شرح سود میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا ، جس پر انہوں نے اعلان کیا کہ شرح سود میں اضافہ نہیں ہو گا۔ترک صدر کی نئی مالیاتی پالیسی کے تحت اکاؤنٹ ہولڈر کو لیرا میں کرنسی رکھنے پر ڈالر ایکسچینج ریٹ پر تحفظ فراہم کیا گیا ہے ،جس کے تحت لیرا کی ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کو بینک پورا کریں گے ۔
