ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس نے 2جرمن سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ۔ یہ پیشرفت جرمنی کی طرف سے روسی سفارت خانے کے 2اہلکاروں کو ملک بدر کرنے کے رد عمل میں سامنے آئی ہے۔ ان روسی اہلکاروں کی ملک بدری کا فیصلہ جارجیا کے ایک شہری کو برلن کے ایک پارک میں گولی مار کر ہلاک کر دیے جانے کے معاملے میں کیا گیا تھا۔ روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جرمن سفیر کو آگاہ کردیا گیا ہے کہ روس میں جرمن سفارت خانے کے 2سفارتی ملازمین کو جوابی اقدام کے طور پرناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔تاہم وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ سفارت کار کب روس چھوڑیں گے۔یہ واقعہ 2019ء میں پیش آیا تھا۔ جرمن حکام کے مطابق ماسکو نے 2019 ء میں برلن کے ایک پارک میں چیچنیا کے سابق کمانڈر کے قتل کا حکم دیا تھا۔ برلن کے ججوں نے گزشتہ ہفتے روسی شہری ودم کراسیکوف عرف ودم سکولوف کو عمر قید کی سزا سنائی تھی اور اسے برلن پارک میں 40 سالہ جیارجین شہری ٹرنائیک کاوتراشویلی کو قتل کرنے کا مجرم ٹھہرایا گیا تھا۔ دوسری جانب ماسکو کی جانب سے کیے گئے اعلان پر برلن نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس کا انتقامی فیصلہ غیر متوقع نہیں ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوں گے۔ جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں جرمن حکومت کے ساتھ مکمل ناانصافی ہوئی ہے۔
