کراچی: سندھ میں نئےبلدیاتی ترامیمی بل نافذ العمل ہوگیا،سندھ اسمبلی سےنوٹیفکیشن جاری کردیا، آئین کےتحت 10روز گزرنےکےبعد لوکل گورنمنٹ ایکٹ موثر ہوگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیا بلدیاتی ترامیمی بل منظور ہونے کے بعد عباسی شہید اسپتال،کراچی ادارہ امراض قلب کے ایم سی سےسندھ حکومت کو منتقل ہونگے،پراپرٹی ٹیکس ٹاون میونسپل کونسلز جمع کریں گی،یونین کمیٹی کا وائس چیئرمین ٹاون میونسپل کونسل کا رکن ہوگا۔
جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ڈی ایم سیز اور ڈسڑکٹ کونسلز کےزیر انتظام اسکولز،اسپتال،مراکز صحت بھی صوبائی حکومت کو منتقل ہوجائے گا، کراچی ،میئر اورچیئرمین کا انتخاب شو آف ہینڈ کےذریعے ہوگا، میئر،چیئرمین کا الیکشن لڑنے کیلئے کونسل ممبر ہونالازم ہوگا۔
نئی ترمیمی بلدیاتی قانون کےتحت کراچی میں ڈسڑکٹ کونسل تحلیل ہوجائے گی،کراچی میں ڈسڑکٹ میونسپل کارپوریشنز ختم ہونے کے بعد نئےٹاونز بنائےجائیں گے، بلدیاتی کونسلز میں خواجہ سراوں اور خصوصی افراد کیلئے ایک فیصد نشستیں مختص ہوگی،ہر کونسل میں خواجہ سراوں خصوصی افراد کی کم ازکم ایک نشست ہوگی۔
خیال رہے کہ بلدیاتی ترامیمی بل 26 نومبر کو منظور کرکے گورنر سندھ کو ارسال کیا گیا تھا، عمران اسماعیل نے بل پر اعتراضات لگا کر واپس کردیا تھا۔
واضح رہے کہ سندھ اسمبلی نے بلدیاتی ترمیمی بل کو 11 دسمبر کو مزید ترامیم کے ساتھ منظور کیا تھا، سندھ اسمبلی سے دوبارہ منظور شدہ بل ارکان اسمبلی سے منظور کروایا گیا تھا۔

