کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے مل کر کراچی کو تباہ و برباد کیا ہے ، 3 سال سے زاید عرصے میں پی ٹی آئی نے بھی جھوٹے وعدے اور پیکجز کے اعلانات کے سوا کچھ نہیں کیا ۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ، جماعت اسلامی کی حق دو کراچی مہم اور کراچی بچائو تحریک سندھ حکومت کو متنازع بلدیاتی ترمیمی بل واپس لینے پر مجبور کر دے گی ۔ شہری اداروں کو ان کے وسائل اور اختیارات کے لیے اور اہل کراچی کے حق کے لیے 31دسمبر کو سندھ اسمبلی پر دھرنا دیا جائے گا ۔ کراچی کے عوام اپنا حق لے کر رہیں گے ۔پیپلزپارٹی نے نہ صرف کراچی بلکہ اندرون سندھ کے عوام کو بھی شدید مایوس اور بے زار کردیا ہے ،وفاقی وصوبائی دونوں حکومتیں عوام کے لیے بدتر ثابت ہوئی ہیں۔ پی ٹی آئی کے اندر سے سلطانی گواہی آرہی ہے کہ حکومت نے ملک کا سب کچھ آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے ، اسٹیٹ بینک کے گورنر کو ملازمت میں توسیع دینے کے بجائے فارغ کیا جائے ،ہم عدالت عظمیٰ سے اپیل کرتے ہیں کہ پاناماو پنڈورا لیکس میں شامل تمام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے ، قومی دولت لوٹنے والے تمام افراد کا احتساب کیا جائے ، لوٹ کر بیرون ِ ملک بھیجی جانے والی قومی دولت واپس لائی جائے اگر یہ ساری دولت واپس آجائے تو ہمارے سارے قرضے ادا ہو جائیں گے اور ہم خیرات مانگنے کے بجائے دینے والی قوم بن جائیں گے ،خیبر پختونخوامیں پی ٹی آئی کی شکست غربت ، مہنگائی اور مسائل میں اضافے کے خلاف عوام کا فیصلہ ہے ، اب بلدیاتی انتخابات کے اگلے مرحلے کی نگرانی وزیر اعظم خود کریں یا صحت کارڈ کے نام پر الیکشن لڑیں ،3 سال میں انہوں نے عوام کے ساتھ جو کھیل کھیلا ہے اب کوئی کارڈ اور نگرانی کام نہیں آئے گی ۔ بلدیاتی انتخابات کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پریس کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کے جائزوقانونی حقوق اور مسائل کے حل کی جدو جہد جاری رکھے گی ، حق دوکراچی تحریک مسلسل آگے بڑھ رہی ہے ، 31دسمبر کو سندھ اسمبلی پر دھرنا ہو گا ۔اس موقع پر مرکزی نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری محمد اصغر ، نائب امیرکراچی ڈاکٹر اسامہ رضی ، سیکرٹری کراچی منعم ظفر خان اور سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے۔سراج الحق نے مزید کہاکہ کے الیکٹرک نے کراچی کے عوام پر ظلم کیا ہے جوآج بھی جاری ہے،موجودہ اور ماضی کی حکومتوں نے اس کی گرفت کرنے کے بجائے اس کی حمایت وسرپرستی کی ہے ،جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لے کر پورے ملک میں بجلی کاایک نظام بنایا جائے۔بجلی کے نرخوں میں اضافے کے بجائے کم کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ 2013ء میں ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے مل کر بلدیہ کراچی کے 19محکمے سندھ حکومت کے حوالے کیے مزید 14محکمے سندھ حکومت نے ترمیمی بل میں لے لیے، جب سب اختیارات سندھ حکومت کے پاس ہوں گے تو صرف نام کے میئر کا کیا فائدہ ہوگا،آج کراچی بے شمار مسائل کا شکار ہے اور ان کے حل کے لیے کچھ نہیں کیاجارہا۔اسلامیہ کالج کی حالت زار دیکھ کر ایسا لگاکہ یہ طلبہ کی نہیں جنات کی جگہ لگتی ہے۔وزیر اعظم نے کراچی کے لیے 1100 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا لیکن 5 سال گزرنے کے بعد بھی کوئی کام نہیں ہوا۔ عبدالستارافغانی اور نعمت اللہ خان کے دورمیں کراچی کی بے مثال خدمت کی گئی اور ریکارڈ ترقیاتی کام کیے گئے۔ سندھ میں طویل عرصے تک گورنر رہنے والے عشرت العباد بھی اعتراف کرتے ہیں کہ نعمت اللہ خان کے دور میں ایمانداری و دیانت داری کے ساتھ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا۔آج بھی صرف جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس کے نظم و ضبط ،جمہوری روایات اور عوامی خدمات کی بدولت نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک میں ترقی ،خوشحالی اور مسائل کا حل ممکن ہے،جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو ڈرائنگ روم کی سیاست کے بجائے گراس روٹ لیول تک کی سطح پر خدمت کرنے پر یقین رکھتی ہے۔کراچی ترقی کرے گا تو ملک ترقی کرے گا،کراچی میں تاریکی ہوگی تو ملک بھی روشن نہیں رہ سکے گا۔جماعت اسلامی پاکستان ’’حق دوکراچی مہم‘‘ کے ساتھ اور اہل کراچی کی پشت پر ہے۔امید ہے کہ کراچی کے عوام کو ان کا حق ضرور ملے گا۔نسلہ ٹاور کے فیصلے کے حوالے سے جلد بازی کی گئی اور متاثرین کو کوئی زر تلافی نہیں دیا گیا۔اسلام آباد میں غیر قانونی ٹاور کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کا فیصلہ بالکل برعکس ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ایک ملک میں ایک قانون ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں وزیر اعظم ، اسپیکر قومی اسمبلی اوروفاقی وصوبائی وزرا کی مداخلت کے باوجود پی ٹی آئی کو زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیر اعظم عمران خان اگر میانوالی میں بھی الیکشن لڑیں گے تو مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے کی وجہ سے تحصیل ناظم کا انتخاب بھی نہیں جیت سکیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت مشکلات کا شکار ہے، 22 کروڑ عوام کے لیے جینا مشکل ہوگیا ہے، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے مسلسل مفادات کی سیاست کی ہے،پیپلز پارٹی نے سندھ کے مسائل حل نہیں کیے۔ملک کی معیشت تباہ ہوگئی ہے۔مافیاؤں کی حکومت ہے اور ان مافیاوں کی وجہ سے ملک کی معیشت دیوالیہ ہوگئی۔ ڈالر کی کمی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ حکمرانوں کی نااہلی و ناقص کارکردگی کی وجہ سے قرضے لیے گئے۔موجودہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ نیب کو طاقت ور اور سیاست سے بالاتر بنائیں گے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہونے کے بجائے اضافہ ہوا۔ گورنر ہائوس پنجاب کے سالانہ بجٹ میں 5 کروڑ روپے کا اضافہ کیا گیا۔ حکومت نے عالمی بینک سے 19.50 کروڑ ڈالر بطور قرض لیے ہیںلیکن ملک میں ایک روپے کا بھی ترقیاتی کام نہیں ہورہا پھر کس بنیاد پر قرضے لیے جار ہے ہیں۔طبقاتی نظام کی وجہ سے 2 کروڑ7 لاکھ نوجوان بے روزگار ہیں۔7 کروڑ سے زاید پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے آگئے ہیں۔اسٹیٹ بینک کا گورنر آئی ایم ایف کا نمائندہ بناہوا ہے ۔ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے ہر لمحے روپے کی قیمت میں کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ کیا ہے۔پاناما لیکس میں ملوث افراد مختلف پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔باہر ممالک میں جتنی بھی دولت ہے وہ سیاسی لیڈرز کی اور کرپٹ اشرافیہ کی ہے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرر ہے ہیں

