لاہور: امیر جماعت اسلامی لاہور میاں ذکر اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے عوام کو ڈاکوؤں اور چوروں کے رحم و کرم پے چھوڑ دیا ہے۔ سال 2021 کے دوران لاہور میں جرائم کے واقعات میں 57 فیصد اضافہ سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔پولیس اور دیگر سیکورٹی ادارے شہر بھر میں چوری اورڈکیتیوں کی وارداتوں کوروکنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ سال 2020 میں ڈکیتی کے 3 ہزار 360 مقدمات درج کیے گئے اور 2021 میں یہ تعداد بڑھ کر9 ہزار 308 ہوگئی جو 5 پزار 948 کا واضح فرق سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ جماعت اسلامی کے قائدین نے کہا کہ نئے سال کیآغاز میں ہی سید مودودی انسٹیٹیوٹ مارکیٹ وحدت روڈ چوبرجی پر ایک رات میں ہی چوری اور ڈکیتی کی3 بڑی وارداتوں میں تین دوکانوں عزیز جنرل سٹور،شملہ بیکری اور سویٹ اینڈ سالٹ سے چور تالے توڑ کر 7لاکھ نقد اور 8 کا سامان کیش کارڈ اور موبائل کارڈز و دیگر قیمتی سامان لے اڑے ہیں ۔اس واردات کی اہل علاقہ اور جماعت اسلامی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور پولیس سے مطالبہ کرتی ہے کہ جلد ازجلد ملزمان کو پکڑا جائے اور چوری کا سامان ریکور کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مین وحدت روڈ پر پٹرولنگ پولیس کا نہ ہونا جرائم کو بڑھانے کا سبب بنا رہا ہے ۔جماعت اسلامی منصورہ کی تاجر برداری کے متاثر ہ دکانداروں کو اکیلا نہیں چھوڑے گی۔انہوں نے کہا کہ شہر لاہور کی عوام چوروں اور ڈاکوں سے اپنے قیمتی مال و جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور سیکورٹی ادارے اورحکومتی نمائندے خرگوش کی نیند سوئے ہوئے ہیں۔ پولیس نے اگر ڈاکوؤں اور چوروں کو جلدازجلد گرفتار نہ کیا تھا ہم تاجروں کے ساتھ مل کر وحدت روڈ کو بلاک کرنے پر مجبور ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ مارکیٹ کے متاثرہ تاجر برداری کے افراد سے ملاقات کے دوران اپنے بیان میں کیا۔ ا س موقع پر ان کے ہمراہ امیر جماعت اسلامی غربی لاہور عبدالعزیز عابد ، سیکرٹری غربی لاہور غلام حسین بلوچ سمیت دیگر ذمہ داران جماعت اسلامی موجود تھے۔

