سپریم کورٹ نے کراچی میں مدینہ مسجد گرانے سے روکنے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔ اٹارنی جنرل نے حکومت کی جانب سے مسجد کی تعمیر کیلئے دوسری جگہ دینے تک مدینہ مسجد نہ گرانے کی استدعا کی تو چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا پارک سے تجاوزات گرانے کا حکم واپس نہیں ہو گا. عدالت نے سپریم کورٹ نے سندھ حکومت سے تین ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی۔
سپریم کورٹ میں کراچی میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی. اٹارنی جنرل خالد جاوید جان نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا طارق روڈ پر قائم مدینہ مسجد گرانے کے 28 دسمبر کے حکم پر نظر ثانی کرے. عدالت کے حکم کی وجہ سے مذہبی تناو جنم لے رہا ہے۔ مسجد گرانے کے حکم سے بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں. چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا سندھ حکومت چاہے تو مسجد کے لیے متبادل زمین دے دے. اٹارنی جنرل صاحب، یہ پارک تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے. جسٹس قاضی امین نے کہا زمینوں کے قبضے میں مذہب کا استعمال ہو رہا ہے. آپ حکومت کے نمائندے ہیں، چاہتے ہیں آسمان گر جائے حکومت نا گرے۔ عبادت گاہ اور اقامت گاہ میں فرق ہوتا ہے. اٹارنی جنرل نے کہا جانتا ہوں یہ ریاست اور صوبائی حکومت کا فرض ہے کہ مسجد کے لیے زمین دے. تاہم عدالت پہلے سندھ حکومت سے مدینہ مسجد پر تفصیلی رپورٹ لیں. چیف جسٹس نے کہا ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ جب تک مسجد کی نئی جگہ نا ملے تب تک اس کو نا گرانے کا حکم دیں. یہ تو بہت گڑ بڑ ہو گئی، ہم اپنا آرڈر واپس نہیں لے سکتے. اس طرح کیا ہم اپنے سارے آرڈر واپس لے لیں؟ ہم نے اپنے فیصلے واپس لینے شروع کیے تو اس سب کارروائی کا کیا فائدہ؟ جسٹس قاضی امین نے کہا تجاوزات پر مسجد کی تعمیر غیر مذہبی اقدام ہے. اسلام اس اقدام کی اجازت نہیں دیتا ہے. مسجد بنانی ہے تو اپنی جیب سے بنائیں. عدالت نے تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت 13 جنوری تک ملتوی کردی۔
طارق روڈ کی مدینہ مسجد گرانے سے روک دیا گیا
القمر
