English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکی دارالحکومت کی پولیس فورس کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ واشنگٹن پولیس چیف

القمر

"مجھے لگا اس داخلی دروازے کی حفاظت کرتے ہوئے میری جان چلی جائے گی۔” یہ الفاظ تھے کیپیٹل پولیس سارجنٹ اقیلینوگونیل کے جنہوں نے تین دیگر پولیس افسروں کے ہمراہ گذشتہ سال جولائی میں چھ جنوری کے کیپیٹل ہل پر حملے کی چھان بین کرنے والے کانگریس کے ایک پینل کے سامنے اپنا بیان دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے حملے سے کانگریس کی عمارت اور قانون سازوں کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے تو مظاہرین میں پھنس کر ان کی سانس رکنے لگی اور انہیں لگا آکسیجن کم ہوتی جا رہی ہے۔

وہیں 42 سالہ آفیسر برائن سک نک بھی تھے جو ہجوم کو کانگریس کی عمارت کے سامنے روکنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ہجوم میں سے کسی نے ان پر کیمیکل سپرے کر دیا۔ وہ بیہوش ہو گئے۔ انہیں ہسپتال پہنچایا گیا اور 24 گھنٹے بعد ان کی موت واقع ہو گئی۔ اگرچہ ڈاکٹروں نے یہی کہا کہ ان کی موت کیمیائی مادے کے باعث نہیں ہوئی۔

گذشتہ برس آج ہی کے دن واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت پر سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کے ہلہ بولنے کے بعد سب سے پہلےجن لوگوں کا ان سے سامنا ہوا وہ دارالحکومت میں ‘یو ایس کیپیٹل پولیس’ کے اہلکار تھے، جنہوں نے ہجوم کو روکنے کی کوشش کی اور جواب میں انہیں پر تشدد ردِ عمل کا نشانہ بنایا گیا۔

6جنوری2021 کی ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں پولیس افسر برائن سک نک کے علاوہ کم از کم 8 مزید افراد ہلاک ہوئے۔ ایک خاتون اس وقت پولیس کی گولی کا نشانہ بنیں جب وہ ایوانِ نمائندگان کے چیمبر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں۔ سابق صدر ٹرمپ کے تین دیگر حامی زخمی ہوئے، جبکہ 6جنوری کے بعد کے دنوں میں دو پولیس افسروں نے خودکشی کر لی۔ میٹرو پولیٹن پولیس نے گذشتہ موسمِ گرما میں بتایا کہ دو مزید پولیس افسروں، کائل ڈی فری ٹیگ اور گنتھر ہشیدا نے خود کشی کر لی ہے۔

نئے پولیس سربراہ کے عزائم

ان سب واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چھ جنوری کی اس ہنگامہ آرائی نے قانون نافذ کرنے والے ملک کے سب سے اہم ادارے، یو ایس کیپیٹل پولیس کو کس قدر متاثر کیا۔ اس ادارے کے اس وقت کے سربراہ کو استعفےٰ دینا پڑا اور جولائی 2021 میں اس کے نئے سربراہ، جے تھامس مینگر نے اپنا عہدہ سنبھال لیا۔

امریکی کیپیٹل ہل پر حملے کا ایک سال مکمل ہونے سے ایک روز قبل، یو ایس کیپیٹل پولیس کے سربراہ مینگر نے بدھ کے روز بتایا کہ اس حملے میں ان کے 100 سے زیادہ افسر زخمی ہوئے۔ تمام ہنگامہ آرائی کے دوران اور اس کے بعد بھی کیپیٹل پولیس کو اس نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑا کہ اس کے اہلکاروں کی کافی تعداد کیپیٹل ہل پر تعینات نہیں تھی اور یہ کہ نیشنل گارڈز نامی فورس کو طلب کیوں نہیں کیا گیا۔ تاہم، اب ایک سال بعد پولیس چیف مینگرنے کہا ہے کہ اگرچہ عملے کی کمی ہے اور امریکی اراکینِ کانگریس کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے مگر انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ انتہائی ضروری کمیاں لازماً دور کریں گے۔

انہوں نے سینیٹ کی ایک سماعت میں ایک نگراں ادارے کے سو سے زیادہ سوالوں کے جواب میں ان تبدیلیوں کا ذکر کیا جو وہ اپنے ادارے کو ایک روایتی محکمہ پولیس کے بجائے ایک حفاظتی فورس بنانے کے لئے لا رہے ہیں۔

ان کے اس منصوبے میں اس فورس کی نفری میں 450 اہلکاروں کی کمی کو پورا کرنا بھی شامل ہے۔ مینگر کا کہنا ہے کہ یہ فورس دارالحکومت یا اراکینِ کانگریس کے خلاف کسی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے، ایک سال پہلے کی نسبت کہیں زیادہ مسلح اور کہیں زیادہ مشاق ہے۔

تحقیقات جاری رہیں گی

امریکہ میں کیپیٹل ہل پر اس حملے کی چھان بین جاری ہے۔ امریکی تاریخ کے اس انتہائی غیر معمولی واقعے کا ایک سال مکمل ہونے سے ایک روز پہلے، امریکہ کے اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکی کانگریس پر اس حملے کے سب ذمے داروں کا حساب ہوگا خواہ وہ وہاں خود موجود تھے یا نہیں۔

انہوں نے بدھ کے روز محکمہ انصاف کے ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹرز نے عزم کیا ہے کہ وہ 6جنوری کے حملے میں ہر سطح پر ملوث تمام ذمے داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں گے۔

امریکی محکمہ انصاف پر بعض ڈیمو کریٹس کی جانب سے دباؤ رہا ہے کہ وہ ان کارروائیوں پر توجہ دے جو ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں کو اکسانے کا باعث بنیں کہ وہ کانگریس کی عمارت پر ہلہ بول دیں۔

اب تک 725 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں اکثریت سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کی ہے۔ ان میں سے 225 پر حملے یا گرفتاری میں مزاحمت کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ 75 سے زیادہ پر پولیس افسروں کے خلاف ہلاکت خیز یا خطرناک ہتھیار استعمال کرنے کا الزام ہے۔

یو ایس کیپیٹل پولیس اور واشنگٹن سٹی پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے 140 اہلکار امریکی حکومت کے اس ایوان پر حملے میں زخمی ہوئے۔

(خبر کا مواد اے پی سے لیا گیا ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے