English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مثالی تعلقات کا حوالہ کیوں؟

القمر
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی مقتدر حلقوں سے مبینہ ڈیل کی باتوں کو ’بے بنیاد قیاس آرائیاں‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ ایسی باتیں کر رہے ہیں اُن سے ثبوت مانگنے چاہییں۔ بدھ کے روز اپنی پریس بریفنگ میں عسکری ترجمان سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی ڈیل کی صورت میں نہ صرف پاکستان واپسی بلکہ حکومت میں واپسی کی خبریں بھی گردش میں ہیں جنھیں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی باتوں سے تقویت مل رہی ہے۔ اس پر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ یہ سب ’بے بنیاد قیاس آرائیاں‘ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی اس طرح کی بات کر رہا ہے تو میں آپ سے کہوں گا کہ اُنھی سے سوال کریں کہ کون ڈیل کر رہا ہے، اس کے محرکات کیا ہیں، اس کا ثبوت کیا ہے کہ ڈیل ہو رہی ہے۔
اس پریس کانفرنس کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹری جنرل و سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال اور پاکستان مسلم لیگ(ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ خان نے کہاہےکہ نواز شریف کوئی ڈیل چاہتے ہیں نہ کسی ایسے مذاکرات کاحصہ ہیں،ڈیل کون کررہا ہے جواب وہی دے گا،نواز شریف جب چاہیں گے واپس آئیں گے،کوئی نہیں روک سکتا۔ احسن اقبال کاکہناتھاکہ شکر گزار ہوں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہ انہوں نے واضح کردیا کہ ہمارے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہورہی ہے۔ ہماری ڈیل 22 کروڑ عوام کے ساتھ ہے،ڈیل کون کررہا ہے جواب ڈیل کرنے والا دے گا،ہم ڈیل کے سودے سے واقف نہیں۔نواز شریف کسی ڈیل کرنے یا کسی ڈیل کاحصہ بننے کوتیار نہیں،کسی ادارے سے کسی ڈیل میں شامل نہیں۔
تاہم تجزیہ نگار حبیب اکرم نے کہا ہے کہ ڈیل یا سازش کے بارے میں ترجمان پاک فوج کو نہیں بتایا جاتا، اگر بتایا بھی جائے تو وہ اس معاملے پر گفتگو نہیں کرتے۔ دنیا نیوز کے پروگرام “اختلافی نوٹ” میں گفتگو کرتے ہوئے حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار سے ڈیل سے متعلق جو سوال ہوا، اس بارے میں ان کا یہی جواب ہونا چاہیے تھا جو انہوں نے دیا۔
حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ڈیل کی باتیں سچ ہیں۔ اس سال خزاں کا موسم میں کچھ ایسے واقعات ہوں گے جس کا خاکہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس خاکے میں میاں نواز شریف اور پیپلز پارٹی کا اپنا اپنا موقف ہے۔ کچھ بزرگوں اور اکابرین نے اس خاکے کے خدوخال طے کرنے میں اہم کردار بھی ادا کیا ہے اور وہ اس سے بخوبی آگاہ بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک یہ ڈیل فائنل نہیں ہوئی کیونکہ اس میں بہت سی ضمانتوں کی ضرورت ہے جس کیلئے پاکستان سے باہر کے چند لوگوں کی بات ہو رہی ہے۔ ابھی تک بات یہ ہے کہ ڈیل ہو رہی تھی، ڈیل ہو رہی ہے۔ مگر یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر ڈیل نہیں ہورہی تو عمران خان یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ اگلے تین ماہ ان کی حکومت کے لیے بہت زیادہ اہم ہیں۔ یہ بات بھی مدنظر رہے کہ ایک سال پہلے تو آپ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی تجزیہ کار کہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی نواز شریف کیساتھ ڈیل ہو رہی ہے۔ ہمیشہ یہی کہا جاتا تھا کہ آپشنز ہی اور کوئی نہیں ہیں۔ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہیں۔۔ گو کہ میڈیا میں یہی تاثر عام کیا جاتا ہے کہ نواز شریف ڈیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں یاآصف زرداری ’متبادل‘ کے طور پر خود کو پیش کررہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اسٹبلشمنٹ کو کسی ایسے سیاسی حل کی ضرورت ہے جس میں ملک کو درپیش بحران کم ہوسکے اور ایک نااہل اور غیر فعال قیادت مسلط کرنے پر اسٹبلشمنٹ کی غلطی پر پردہ ڈالا جاسکے۔
اسی خطرہ کو بھانپ کر عمران خان سول ملٹری تعلقات کے بارے میں والے سوال پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے فوجی قیادت سے تعلقات مثالی ہیں۔ یوں وہ دراصل اپنی خفت مٹانے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔ حالانکہ اگر تحریک انصاف کی حکومت تمام شعبوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے اور اپوزیشن لیڈر صرف چوری چھپانے یا نئی کرپشن کرنے کے لئے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں تو عمران خان کو فوجی قیادت سے ’مثالی تعلقات‘ کی بیساکھیاں کیوں درکار ہیں؟ منتخب لیڈر کے طور پر انہیں پارلیمنٹ میں اکثریت چاہئے اور فوج توآئینی طور سے وزیر اعظم کی تابع فرمان ہی ہے۔ اس کا اظہار حال ہی میں آئی ایس پی آر کے سربراہ نے بھی کیا ہے۔ اس کے باوجود اگر سول ملٹری تعلقات کے بارے میں سوال اٹھائے جاتے ہیں اور اس کا جواب فوجی قیادت سے ’مثالی تعلق‘ کی صورت میں دینے کی کوشش کی جاتی ہے تو جان لینا چاہئے کہ کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ گڑبڑ تو ہے۔
ہفتہ، 8 جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post مثالی تعلقات کا حوالہ کیوں؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے