English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھل صفائی محض کاغذی کارروائی ،پانی کی بندش بلا جوز ہے،الطاف میمن

القمر

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد الطاف میمن نے کہا ہے کہ محکمہ سندھ آبپاشی کی جانب سے دریائے سندھ سے نکلنے والی نہروں کی بھل صفائی کے نام پر ہر سال کی طرح اس سال بھی 25 دسمبر سے 12 جنوری تک پانی کی بندش سے شہریوں کے لیے صافپانی کا حصول مشکل ترین ہو گیا ہے۔ ہر سال محکمہ آبپاشی کو نہروں کی صفائی کی مد میں کروڑوں روپے جاری کیے جاتے ہیں لیکن نہروں کی صفائی صرف اور صرف کاغذی کارروائی تک ہی محدود رہتی ہے اور گندے پانی کا خمیازہ سندھ کے شہریوں کو سارا سال مضر صحت پانی پی کر ادا کرنا پڑتا ہے جو پیٹ کے بےشمار امراض کا سبب بنتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انجمن تاجران الرحیم شاپنگ سینٹر کے نمائندہ وفد سے
گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صدر چیمبر نے شہر کی ابتر صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بارش اللہ کی رحمت ہے لیکن واسا اور بلدیہ کی نااہلی کے باعث یہ زحمت بن جاتی ہے،برساتی نالوں میں کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور بیشتر علاقوں میں صفائی ستھرائی کی صورت حال ابتر ہے، سڑکیں تالاب کا منظر پیش کررہی ہیں، سیوریج کا نظام تباہ حالی کا شکار ہے۔ حالی روڑ، لطیف آباد نمبر 3,4,11,12 ، ذیل پاک کالونی، شاہ لطیف کالونی، پھلیلی، کلاتھ مارکیٹ سمیت دیگر علاقوں میں پہلے ہی صفائی کا نظام نہ ہونے کے برابر تھا اور برسات ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کی صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ گلی محلوں میں نالیوں اور گٹروں کا گندا پانی کھڑا رہنا معمول کی بات ہے، متاثرہ علاقوں میں صفائی کا عملہ مہینوں دستیاب نہیں ہوتا جس کی وجہ سے کاروباری برادری اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ الطاف میمن نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، وزیر آبپاشی جام خان شورو، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ اور ایم ڈی واسا سے بھر پور الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ شہر حیدرآباد کی صفائی ستھرائی، برساتی نالوں کی صفائی اور پانی کی بندش کو ختم کرنے کےلےے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے