قاہرہ: مصر کے فوجی ترجمان کرنل غریب عبدالحافظ نے مصر اور سعودی عرب کی افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشق کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی اراضی پرتبوک 5کے نام سے ہونے والے اس مشق میں دونوں ملکوں کی بری افواج شرکت کر رہی ہیں۔ فوجی اہل کاروں کی شرکت اور سرگرمیوں کے تنوع کے لحاظ سے یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی مشق ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بحیرہ احمر میں مصر کے جنوبی بیڑے کے دائرہ کار میں مصری جنگی بحری جہاز اور دو امریکی جنگی بحری جہازوں کے بیچ سمندری مشق انجام دی جا رہی ہے۔ سعودی عرب اور مصر کے درماین تبوک5مشق پانچویں بار منعقد ہو رہی ہے۔ مشق میں پیدل دستے، بکتر بند گاڑیاں، فوجی ٹینک، چھاتا بردار اسپیشل فورسز اور خصوصی ہتھیاروں کی سپورٹ کرنے والے مختلف عناصر شامل ہیں۔مصر میں نیشنل ڈیفنس کالج کے سابق ڈائریکٹر میجر ڈاکٹر محمد الغباری کے مطابق مصری اور سعودی فوج خطے میں طاقت ور ترین افواج میں سے ہیں۔ ان کے تجربات کی روشنی میں مشترکہ مشقوں سے لڑائی کی اہلیت اور صلاحیت میں اضافہ ہو گا۔
الغباری کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی عسکری مشقوں سے دونوں افواج کے پاس موجود جدید ہتھیاروں سے تعارف کے حصول میں مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں لڑائی کی جدید مہارتوں سے بھی آگاہی حاصل ہو گی۔ دونوں ملکوں کے بیچ عسکری تعاون کو ترقی ملے گی۔ادھر مصری فوجی ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ بحیرہ احمر میں مصری جنوبی بیٹرے کے دائرہ کار میں سمندری مشق میں لڑائی کی کئی سرگرمیاں ہوں گی۔ ان میں بحیرہ احمر میں سمندری سیکورٹی اقدامات اور اہم کارگو کے حامل بحری جہازوں کے تحفظ کی مشق شامل ہے۔
ترجمان کے مطابق یہ تربیتی مشق مصر اور امریکا کی مسلح افواج کے درمیان تزویراتی شراکت داری اور خصوصی تعلقات کو باور کراتی ہیں۔مصری فوجی امور کے ماہر بریگیڈیر جنرل محمد الجوہری کا کہنا تھا کہ سمندری بحری ماحول میں ایک مشترکہ چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ چیلنج ہے بحیرہ احمر میں سمندری جہاز رانی کے امن کا تحفظ ،،، جہازوں کی یہ حرکت نہر سوئز کے راستے ہوتی ہے۔ یہ مصر کی آمدنی کا مرکزی ذریعہ ہے اسی طرح یہ عالمی تجارت کے لیے بھی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔

