اسلام آباد (صباح نیوز+آئی این پی)وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک مادر پدر آزاد نہیں ہوگا، اس پر حکومت کا کنٹرول برقرار رہے گا،بورڈ ارکان کے تقرر کی منظوری کا اختیار بھی حکومت کے پاس ہوگا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مارچ میں 50کروڑ ڈالر قرض کے بدلے آئی ایم ایف کی بعض سخت شرائط مانی گئیں تاہم موجودہ بل اس سے بہت حد تک مختلف ہے، اگر ہم سینیٹ کو پارلیمنٹ نہیں سمجھتے تو سینیٹ کو بند کردیں، روپے کو مصنوعی طریقہ سے روک کر 60ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا گیا۔شوکت ترین نے کہا کہ ہم ٹیکس اصلاحات نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہم ہر بار کھڈے میں گرجاتے ہیں، پنشنر پر ٹیکس لگانے کا مطالبہ نہیں مانا،مہنگائی درآمدی خوراک سے ہورہی ہے مہنگائی رہے گی اتنی جلد ختم نہیں ہوگی،اسٹیٹ بینک کاگورنر حکومت لگائے گی ۔ اس مو قع پر گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ جعلی خبریں چلائی گئیں کہ حکومت نے اسٹیٹ بینک آئی ایم ایف کو بیچ دیا، اب مسودہ سب کے سامنے آچکا ہے جس میں تمام اختیارات حکومت کے پاس ہیں، یہ تاثر دینا غلط ہے کہ آئی ایم ایف کو اسٹیٹ بینک کا مالک بنایا جارہا ہے، میں پہلے آئی ایم ایف کے لیے کام کرتا تھا کیا کسی عالمی ادارے میں کام کرنا جرم ہے، ہماری تاریخ میں کئی گورنرا سٹیٹ بینک آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی اداروں میں کام کرتے رہے، میری کوئی دوسری شہریت نہیں ہے ،پاکستانی ہوں، میری پاس کسی دوسرے ملک کی مستقل رہائش بھی نہیں ہے، میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان معاملات کو لے کر جعلی خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔اجلاس میں قائدایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم اور سینیٹر سعدیہ عباسی کے درمیان شدید لفظی جھڑپ ہوئی ، دونوں ایک دوسرے کوچورکہتے رہے ۔چیئرمین کمیٹی کواجلاس 10منٹ کے لیے موخرکراناپڑا۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین سے جیولرز ایسوسی ایشن کا وفد ملاقات کررہا ہے
