English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مسلم لیگ نواز کا جمہوری نقاب

القمر
پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) اور اس کے دو سینئر رہنماؤں مریم نواز اور پرویز رشید کو صحافتی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ان کی ایک حالیہ ’آڈیو لیک‘ پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ تاہم مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے اپنے موقف میں فون ٹیپ کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ’پاکستان کے قوانین کے مطابق کسی بھی فرد کی نجی ٹیلیفونک گفتگو ریکارڈ کرنا جرم ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کے لیے بھی اگر آپ کو ایسا کرنا پڑے تو پہلے عدالت سے اجازت لینا پڑتی ہے۔’تنقید کا مرکز ان کی وہ گفتگو ہے جس میں سابق وزیرِ اطلاعات پرویز رشید چند صحافیوں کے حوالے سے نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں۔سوشل میڈیا ہی پر سامنے آنے والی خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی آڈیو میں پرویز رشید ایک نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے ایک پروگرام سکور کارڈ کے چند مہمانوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے نازیبا الفاط میں کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ’۔۔۔ہم پر بٹھا دیے گئے ہیں۔‘
پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں یہ گفتگو سنہ 2016 کی ہے۔ تاہم انہیں یہ یاد نہیں تھا کہ یہ گفتگو واٹس ایپ آڈیو کال پر ہوئی تھی یا فون پر۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وزیرِاعظم کے دفتر کے اندر فون ٹیپ کیے جاتے ہیں۔ ہمارا سوال یہ کہ کون یہ فون ٹیپ کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق کسی بھی فرد کی نجی ٹیلیفونک گفتگو ریکارڈ کرنا جرم ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کے لیے بھی اگر آپ کو ایسا کرنا پڑے تو پہلے عدالت سے اجازت لینا پڑتی ہے۔’ تاہم اس سوال کے جواب میں کہ کیا وہ اس حوالے سے قانونی چارہ جوئی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں پرویز رشید کا کہنا تھا کہ ‘یہ تو ریاست کے دیکھنے کا معاملہ ہے۔ اگر سڑک پر کوئی قتل ہو جائے تو کیا ریاست خود سے اس پر تحقیقات نہیں کرے گی۔
 مریم نواز کی یہ دوسری آڈیو ٹیپ ہے جو منظر عام پر آئی ہے۔ یہ دونوں ٹیپس میڈیا کے حوالے سے ہیں، ایک میں دو بڑے میڈیا گروپس کو اپنی سیاسی جماعت کی طرف راغب کرنے کی بات کی گئی ہے اور دوسری آڈیو ٹیپ میں مریم نواز اور پرویز رشید نامور صحافیوں حسن نثار اور ارشاد بھٹی کے بارے غیر اخلاقی گفتگو کرتے ہوئے سنے گئے۔ ان آڈیو ٹیپس کو مبینہ اس لیے نہیں کہا جا سکتا کیونکہ مریم نواز نے حالیہ پریس کانفرنس میں جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ حسن نثار اور ارشاد بھٹی کے حوالے سے کیا اپنی گفتگو پر نادم ہیں؟ تو انہوں نے جواب میں کہا کہ پہلے مجھ سے معذرت کی جائے کہ میری نجی ٹیلی فون کال کو کیوں ریکارڑ کیا گیا۔ان کی بات ایک طرح سے اعتراف ہے کہ آڈیو ٹیپ اصل ہے۔
ملک بھر کی صحافتی تنظیموں نے مریم نواز اور پرویز رشید سے معافی کا بھی مطالبہ کیا ہے مگر دونوں نے انکار کر دیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ اور تین بڑے پریس کلبز ایڈیٹروں اور مالکان کی تنظیمیں اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ جہاں تک مریم نواز کی بات ہے وہ ایک نو دولیتئے سیاسی گھرانے کی سونے کا چمچ منہ میں لیے کر پیدا ہونے والی ایک خودسر خاتون ہیں، جن کی کوئی سیاسی سماجی ادبی اور ثقافتی تربیت نہیں ہے۔ جس خاندان سے ان کا تعلق ہے وہاں کتاب بنی کا کوئی رواج نہیں ہے، اس لیے ان سے اسی جواب کی توقع کی جا سکتی تھی، مگر پرویز رشید ماضی کے نظریاتی سیاسی کارکن رہے ہیں اور کتابیں پڑھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں جبکہ سیاسی مخالفین کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتے ہیں، ان کا ایسا رویہ سمجھ سے بالا تر اور قابل افسوس بھی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وطن عزیز میں عدم برداشت کا کلچر صاحبِ علم لوگوں میں بھی داخل ہو چکا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن اپنے جس قدر مرضی جمہوریت کا راگ الاپ لے مگر ان دونوں آڈیو ٹیپس منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے وہ اختلاف رائے برداشت نہیں کر سکتی۔ ووٹ کو عزت دو صرف سیاسی شعبدہ بازی ہے اور آزادی صحافت ایک جھوٹا نعرہ ہے۔ جب ثاقب نثار صاحب کی مبنہ آڈیو ٹیپ منظر عام پر آئی تھی تب مسلم لیگ ن نے اس کا خیر مقدم کیا تھا مگر جب اپنی منظر عام پر آئی تو نجی زندگی میں مداخلت قرار دیا جا رہا ہے، یہ ہیں مسلم لیگ ن کے تضادات۔ ایک طرف تو مسلم لیگ نواز جمہوریت کا دعوٰی کر رہی ہےاور ووٹ کو عزت دو کے نعرے بلند کر رہی ہے وہیں پر اس طرح کی آڈیو ٹیپ ن لیگ کی اصل حکومت اور جمہوریت پسندی کا پول کھولنے کے لیے کافی ہے۔
منگل، 11 جنوری 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post مسلم لیگ نواز کا جمہوری نقاب appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے