English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دنیا بھر میں دل کے پٹھوں (ہارٹ فیلیئر) کا مرض وبائی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے

کراچی: پاکستان سمیت دنیا بھر میں دل کے پٹھوں کی کمزوری (ہارٹ فیلیئر) کا مرض وبائی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کا حجم کینسر (سرطان ) سے بھی زیادہ ہوتا جارہاہے لیکن پٹھوں کی کمزوری کا عمل بتدریج ہوتا ہیہارٹ فیلیئرکے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے،دل کے پٹھوں کی کمزوری کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص سیہارٹ فیلیئرسے اموات میں کمی لائی جا سکتی ہے،سیہارٹ فیلیئرکے مریضوں کا پہلے مرحلے میں علاج کر کیانہیں موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکتاہے۔

یہ بات ڈاؤ یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر پروفیسر سید نصرت شاہ نے ڈاؤ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے زیر ِ اہتمام “فرسٹ کارڈیک الیکٹروفزیالوجی سمپوزیم آن ڈرگس، ڈیوائس بیسڈ تھراپی فار ہارٹ فیلیئر” سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی، سمپوزیم سے پروفیسر خاور عباس کاظمی، پروفیسر زاہد جمال، ڈاکٹر اعظم شفقت، ڈاکٹر عامر حمید خان،ڈاکٹرطاہر بن نذیر، ڈاکٹر غزالہ عرفان، ڈاکٹر فوزیہ پروین، ڈاکٹر طارق فرمان، ڈاکٹر فیصل خانزادہ اور دیگر نے بھی  خطاب کیا۔پروفیسر نصرت شاہ نے کہا کہ علاج کی جدید ترین سہولتیں عوام کو فراہم کی جانی ضروری ہیں۔ ڈاؤ یونیورسٹی دل کے علاج کی تمام جدید ترین سہولتیں عوام کو مناسب ترین قیمت میں فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ  میں عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ دل کی بیماریوں سے کیسے بچا جائے،

انہوں نے زور دیا کہ صحت مند طرز زندگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ڈاکٹرز کو بھی اپنے طرز عمل سے کوئی غلط پیغام عوام کو نہیں دینا چاہیئے۔دیکھا یہ گیاہے کہ بعض ڈاکٹر ز سگریٹ نوشی کرتے ہیں ، مریضوں کو بھی اس کا علم ہوتا ہے۔ڈاکٹر کو قطعی طور پر سگریٹ نوشی یا کوئی بھی ایسا طرز عمل نہیں اختیار کرنا چاہیئے جس سے لوگ غلط پیغام لیں۔ سمپوزیم سے خطاب میں ماہرین نے بتایا کہ سمپوزیم کے انعقاد کا مقصد ہارٹ فیلیئر کے جدید طریقہِ علاج کے بارے میں ڈاکٹرز اور طلباء کو آگاہی  فراہم کرنا ہے۔ ہارٹ فیلیئر میں دل کے پٹھے پہلے کمزور اور بعد میں ناکارہ ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں دل خون کو پمپ کرنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔پروفیسر اعظم شفقت نے کہا کہ جدید طریقہ علاج میں تاروں (پٹھوں) کودرست کیا جاتا ہے اس علاج کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ مہنگا ہیمتعین درست منصوبہ بندی کر کے اسکی لاگت کو کم کیا جا سکتا ہے۔

ڈاؤ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کیڈائریکٹر  ڈاکٹر طارق فرمان نے کہا کہ  انجیوپلاسٹی کی سہولت اور ارزاں قیمتوں پر فراہمی  کے بعد اب ہمیں ہارٹ فیلیئر کے مریضوں کے لئے طبی میدان  میں موجود تمام آلات کار اور صلاحیتیں استعمال  کر کے ایک کامیاب حکمت عملی بنانا ہوگی جس سے پٹھوں کی کمزوری کے مریضوں کا جدید ترین اور ارزاں علاج ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر اچانک حرکت قلب بند (سڈن کارڈیک ڈیتھ) ہونے سے موت کو ہارٹ فیلیئر سمجھا جاتا ہے جبکہ طبی اصطلاح میں ہارٹ فیلیئر اچانک دل بند ہونے کو نہیں بلکہ مرحلہ وار دل کے اعضاکمزور ہونے کے عمل کو کہا جاتا ہے۔ڈاکٹر فیصل خانزادہ نے کہا کہ دل کے پٹھے کمزور ہونے کا عمل چار حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، بلڈ پریشر یا شوگر کے مرض کی باقاعد ہ دوا استعمال نہ کرنے کے نتیجے میں اس کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوتا ہیاور سانس پھولنے کا عمل اس کے تشویشناک مرحلے میں داخل ہونے کی نشانی ہے، یہ تیسرا مرحلہ تصور کیا جاتا ہے اس مرحلے کو دواؤں سے آگے بڑھ کر جدید علاج یعنی الیکٹروفیزیالوجی کے مختلف طریقوں  سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ آخری مرحلے میں پہنچنے  سے بچا جاسکے جس میں دل کے پٹھے کمزور ہو کر خون پمپ کر کے قابل نہیں رہتے  اور بالکل ناکارہ ہوجاتیہیں۔ سمپوزیم کے آخر میں پروفیسر ?ڈاکٹر نصرت شاہ نے مقررین میں اسناد اور شیلڈز تقسیم کیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے