متحدہ قومی مومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مقامی ہوٹل میں سیاسی و معاشی متعلقین کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج یہاں کراچی کے صنعت،تجارت اور حرفت سے تعلق رکھنے والی قیادت یہاں موجود ہے جس کے ہم تہہ دل سے مشکور ہیں
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ہم نے گزشتہ دنوں پاکستان کے تمام سیاسی جماعتوں کو جمع کیا اور اتحاد کی بات کی،ایم کیو ایم کا قیام 18مارچ 1984کو اس وقت کے نو جوان طالب علموں کے ذریعے ہوا اس وقت بھی ہم سب کے پاس گئے اور آج بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ جب تک خوشحالی کراچی کے راستے پاکستان میں داخل نہیں ہوگی پاکستان ترقی نہیں کریگا،
انہوں نے مزید بتایاکہ1987میں ایم کیو ایم نے بلدیاتی الیکشن جیتا اور نو جوان میئر نے ایک سال کے اندر ماس ٹرانزٹ منظور کروایالیکن اسے سردخانے کا شکار کردیا گیااور پھرقائم علی شاہ نے اس منصوبے کو طاق نوسیاں کیا۔ ایم کیو ایم پر جو آپریشن مسلط کیا گیا لیکن ایم کیو ایم کے جرائم نہیں بتائے گئے اور جن مسائل کو ایم کیو ایم کی پیداوار سمجھا جاتا ہے در اصل ایم کیو ایم ان مسائل کی پیداوار ہے ایم کیو ایم کوٹہ سسٹم کیخلاف ہے کوٹہ سسٹم کے خاتمے سے پہلے میرٹ کا قتل کرنے والوں کا خاتمہ کیا جائے۔

