پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو اپنی ظالمانہ صوبائی حکومت کو بچانے کے لیے کراچی اور شہری علاقوں پر شب خون مارنا پڑ رہا ہے، سندھ کے دیہی علاقوں کی عوام کو پیپلز پارٹی نے گزشتہ پچاس سال میں معاشی اور معاشرتی طور پر اتنا بدحال کردیا ہے کہ انہوں نے پیپلزپارٹی کے ظلم کے سامنے ناصرف ہتھیار ڈال دیے ہیں بلکہ اتنا بےبس اور مجبور کردیا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے ظلم کیخلاف شکایت بھی نا کرسکیں، یہی وجہ ہے کہ سندھ کے دیہی علاقوں کے مظلوم اور پسے ہوئے لوگوں نے حالات سے سمجھوتا کرکہ اس ظلم کو اپنی قسمت کا فیصلہ مان کر پیپلزپارٹی کے ظلم کے سائے میں اپنی زندگی گزارنے کو ترجیح دے دی ہے۔ سندھ کے شہری علاقے کراچی اور حیدرآباد آج تک پیپلزپارٹی کے جابرانہ ظلم کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہے ہیں۔ حکمرانوں کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ کراچی کے لوگ وہ طاقت رکھتے ہیں کہ اگر وہ اس ظالم حکومت کیخلاف میدان عمل میں آگئے تو ناصرف کراچی اور حیدرآباد بلکہ تمام سندھ کے لوگوں کو پیپلزپارٹی کے جابرانہ اور ظالمانہ نظام حکومت سے آزادی دلوا کر پیپلز پارٹی کی اگلی نسلوں کی حکمرانی کا خواب چکنا چور کرسکتے ہیں۔ لحاظہ پیپلز پارٹی نے نئے بلدیاتی ترمیمی قانون کے زریعے سندھ کے شہری علاقوں کے لوگوں کی سانسیں روک کر کراچی اور حیدرآباد کے لوگوں کو اس قدر معاشی اور معاشرتی طور پر بدحال کرنا چاہتی ہے کہ انکے اندر مزاحمت کرنے کی قوت ختم ہوجائے اور اس طرح پورے سندھ پر پیپلزپارٹی کی اگلی نسلوں کے راج کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے۔ پاک سر زمین پارٹی ان ظالم، متکبر اور متعصب حکمرانوں کے تابوت میں آخری کیل ہے۔ ہمارا وجود ہی ظالم حکمرانوں کو کھٹکتا ہے۔ وقت کے فرعونوں کے خلاف حق کے علم کو اونچا کرنا اور باطل کے خلاف ڈٹ جانا ہی ہماری شناخت ہے۔ ہم نا کل کسی وقت کے فرعون کے سامنے جھکے، بکے، ڈرے اور نا آج اس پیپلز پارٹی کی فرعونیت کے آگے جھکیں گے۔ ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے اور پیپلز پارٹی کے ظلم کے مٹ جانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی، نیشنل کونسل اور تمام ڈسٹرکٹ اور مرکزی شعبہ جات کے انچارجز کے اجلاس سے پاکستان ہاو¿س میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاک سر زمین پارٹی کی وجہ سے آج پاکستان کی مختلف اکائیاں ایک دوسرے سے جڑ گئی ہیں۔ ہم نے گزشتہ 6 سال میں ایک یوٹرن نہیں لیا، ہم نے پہلے دن جو بات کی ہے وہی بات آج کررہے ہیں، ہمارے علاوہ سندھ اور پاکستان کے گمبھیر مسائل کا قابل عمل کوئی پیش نہیں کررہا اور ہمارے بتائے گئے حل صرف ایک علاقے یا شہر کے مسائل کا حل نہیں بلکہ پاکستان کی تمام اکائیوں، ہر گاوں، گوٹھ، تحصیل کے مسائل کا حل ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ آج وزیراعظم، وزرائ اعلیٰ کی سیاسی جماعتیں چھوڑ کر پاک سر زمین پارٹی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔ ہمارے علاو¿ہ عوام کے پاس اب کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ 30 جنوری کو ہمارے احتجاج سے پیپلز پارٹی کے ظالم حکمرانوں کو پتہ لگ جائے گا کہ سامنے جب باکردار، بہادر اور قابل قیادت کھڑی ہو تو مظلوم عوام کو اختیارات اور وسائل دینے کے علاو¿ہ دوسرا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ اجلاس کے موقع پر صدر پی ایس پی انیس قائم خانی سمیت اراکینِ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور نیشنل کونسل نے بھی شرکت کی۔

