کراچی: تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈرخرم شیر زمان نے کہا ہے کہ دن دہاڑے کراچی میں بینک اور لوگوں کو لوٹا جارہا ہے۔ اغواء برائے تعاون کا سلسلہ مزید بڑھ رہا ہے۔ 2021 میں 40 سے 45 ہزار سے موبائل فون چوری ہوئے، 2 ہزار سے زائد گاڑیاں چھینی گئیں۔ میرا سوال کے صوبہ کا وزیر اعلیٰ کیا کررہا ہے۔ بلاول زرداری اس صوبے کی حکمران جماعت کی قیادت کرتے ہیں وہ کیا کررہے ہیں؟ یہ باتیں انہوں نے گزشتہ روز قتل ہونے والے شاہ رخ سلیم کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ رکن سندھ اسمبلی علی عزیز جی جی بھی موجود تھے۔ خرم شیر زمان کا مزید کہنا تھا کہ مری میں قدرتی آفت آئی تو بلاول نے شور کیا۔ کراچی میں ہر دن لوگوں کیلئے آفت زدہ ہے بلاول کیوں خاموش ہیں۔ ٹنڈوجام میں 20 لوگ کچی شراب پینے سے انتقال کرگئے۔ کراچی میں لوگوں کو دن دہاڑے قتل کیا جاتا ہے ۔ مراد علی شاہ کے پاس منصب پر بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں ، مراد علی شاہ کو غیرت مندی کیساتھ استعفیٰ دینا چاہیے ۔ 14 سالوں میں ہر قیامت صوبہ سندھ پر آئی ہے۔ لاڑکانہ میں ایڈز سے لوگ مررہے ہیں۔ تھر میں بچے بھوک سے مررہے ہیں، بارش اللہ کی رحمت ہے جو سندھ میں زحمت بن جاتی ہے۔ حکومت سندھ کو عوام کی زندگیوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ایم پی اے علی جی جی کل سے شارخ کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔ امن و امان کیلئے تحریک التوا بھی جمع کرائی گئی ہے ۔ سندھ حکومت کو بے نقاب کرنے میں میڈیا کا کردار کلیدی ہے ۔ میڈیا نمائندگان کے مشکور ہیں۔ کراچی کے حالات کی بہتری کیلئے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنا دینا ہوگا ، انہیں جگانا ہوگا کیونکہ سندھ حکومت سورہی ہے۔ عوام مر رہی ہے پیپلز پارٹی کو کوئی سروکار نہیں ۔ جب تک پیپلز پارٹی اقتدار میں رہے گی حالات بہتر ہونا ممکن نہیں۔ دریں اثناء ، پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی بلال غفار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مراد علی شاہ نے کراچی کو سیف سٹی بنانے کے بجائے ان سیف سٹی بنادیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کا قلمدان وزیر اعلیٰ سندھ کے بجائے کسی خاتوں وزیر کے پاس ہونا چاہیے۔ پولیس شہریوں کی خدمت کے بجائے بلاول کی خدمت اور او بھگت میں مصروف ہے۔ سندھ حکومت نے کراچی کو بدنام کردیا ہے۔ہماری درخواست ہے چیف جسٹس کراچی میں جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات پر نوٹس لیں۔

