English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

غلط پارکنگ اور پارکنگ پلازاز کی کمی ٹریفک کا بڑا مسئلہ ہے: سید ذوہیب گیلانی سٹی ٹریفک پولیس

سید ذوہیب گیلانی سب انسپکٹر سٹی ٹریفک پولیس ہیں اور گزشتہ پندرہ سال سے اس شعبے میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ سید ذوہیب گیلانی قائد اعظم یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات عامہ میں پی ایچ ڈی سکالر بھی ہیں۔  شفقنا اردو نے پاکستان اور خاص طور پر میٹروپولیٹن شہروں میں ٹریفک کی صورتحال پر سید ذوہیب گیلانی سے خصوصی بات چیت کی ہے۔

شفقنا اردو : پاکستان میں ٹریفک کے بڑے مسائل کیا ہیں اور خاص طور پر بڑے شہروں میں ٹریفک کی صورتحال میں آپ ان مسائل کو کیسے دیکھتے ہیں؟

سید ذوہیب گیلانی: پاکستان میں ٹریفک مسائل توموجود ہیں مگر چونکہ میں جڑواں شہروں میں کام کر رہا ہوں تو میں اس حوالے سے بات کرنا پسند کروں گا۔ راولپنڈی میں تین میں سڑکیں ہیں جن پر ٹریفک کا حجم بڑھتا جارہا ہے مگر ان سڑکوں کو کشادہ نہیں کیا گیا ۔ اس وقت راولپنڈی کی آبادی 5 ملین سے زیادہ ہے مگر روڈ انجینرنگ اور ٹریفک مینجمنٹ کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ٹریفک پولیس اپنی ذمہ داریاں بہ احسن سرانجام دینے کی کوشش کررہی ہے مگر ان کے ساتھ ٹریفک اور انفراسٹرکچر کے لیے جڑے شعبہ جات زیادہ ذمہ دار ہیں اور ان کی وجہ سے تمام تر بوجھ سٹی ٹریفک پولیس پر ہے۔

شفقنا اردو: کیا پاکستان میں ٹریفک پالیسی موجود ہے اور اگر موجود ہے تو اسے کیسے بہتر بنایا جاسکتا ہے؟

سید ذوہیب گیلانی: پالیسی سازی ہمارا کام نہیں ہے یہ مقننہ کا کام ہے ۔ ہمارا کام صرف ٹریفک کے فلو کو بہتر بنانا، قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ، روڈ پر حادثات کی کمی کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ رہتی ہے۔ پالیسی کو بہتر ایسے بنایا جاسکتا ہے کہ سڑکوں پر غلط پارکنگ کے خاتمے کے لیے پارکنگ پلازا کی تعمیر کی جاسکتی ہے ۔ خاص طور پر شاپنگ مالز میں یہ مسئلہ ہے۔ جب کہ عوام کو پارکنگ کا شعور بھی نہیں ہے جس کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

شفقنا اردو:حادثات کی روک تھام میں ٹریفک پولیس کا کیا کردار ہے؟

سید ذوہیب گیلانی:  حادثات کو کم تو کیا جاسکتا ہے مگر ان کو پوری طرح یقینا ختم نہیں کیا جاسکتا۔ حادثات کی کمی کے لیے ہم روڈ سیفٹی کو یقینی بنا کر اور قانون کی عمل داری کے نفاذ کی کوشش کرتے ہیں اور اس سے حادثات میں کافی حد تک کمی دیکھی گئی ہے ۔ ہم اپنے وسائل کے اندر رہ کر حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ حادثات کو کم کیا جائے اور اس کے لیے ہم مسلسل ٹریفک سائنز، سائن بورڈز اور قانون پر سختی سے عمل درآمد کراتے ہیں ۔

شفقنا اردو: ٹریفک کے حوالے سے آگاہی مہمیں کس قدر مؤئر ہیں؟

سید ذوہیب گیلانی: آگاہی مہموں کے حوالے سے ہمارے پاس ایک ایجوکیشن ونگ موجود ہے جو سکولوں میں، کالجوں میں، بس اڈوں پر، سڑکوں پر جا کر روڈ سیفٹی کے حوالے سے آگاہی دیتے ہیں۔ جب کہ اس حوالے سے ہم سیمینارز اور لیکچرز کا انعقاد کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم سوشل میڈیا پر ہم آگاہی مہم پر مشتمل ویڈیوز جاری کرتے ہیں۔ جب کہ ہم عملی طور پر مشق بھی کراتے ہیں جیسا کہ ہم لوگوں کو زیبرا کراسنگ، لین کی پابندی اور سیٹ بیلٹ کے استعمال کے حوالے سے باقاعدہ مشق کراتے ہیں۔

شفقنا اردو:کیا پاکستان میں ٹریفک کے حوالے سے موجود انفراسٹرکچر موجودہ ٹریفک کے لیے کافی ہے؟

سید ذوہیب گیلانی: بڑھتی ہوئی آبادی اور گاڑیوں کے حجم کے پیش نظر انفراسٹرکچر میں ہمیشہ بہتری کی گنجائش رہتی ہے۔ مثلا حال ہی میں ہمارے ہاں کچھ چوکوں کی ری مولڈنگ ہوئی ہے جس سے ٹریفک کی روانی میں بہتری ہوئی ہے۔ اسی طرح مری روڈ کو سگنل فری کر دیا گیا ہے جس سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوئی ہے ۔ انفراسٹرکچر کے حوالے سے بہتری کی کوشش جاری ہے مگر سب سے بڑا مسئلہ غلط پارکنگ ہے اور پارکنگ پلازاز کا نہ ہونا ہے۔ جب تک غلط پارکنگ کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تب تک ٹریفک کے مسائل کو مکمل حل نہیں کیا جاسکتا۔
جمعتہ المبارک، 14 جنوری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post غلط پارکنگ اور پارکنگ پلازاز کی کمی ٹریفک کا بڑا مسئلہ ہے: سید ذوہیب گیلانی سٹی ٹریفک پولیس appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے