رپورٹ : علیم عثمان
وفاقی دارالحکومت ان دنوں شدید افواہوں کی زد میں ہے کہ ماہ رواں کے آخری ہفتے میں کوئی ایسا بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے جو پورے ملک کا سیاسی منظر نامہ بدل کے رکھ دے گا، “واقفان حال” کا اصرار ہے کہ یہ انہونی عین 2007 کے اس حادثے جیسی بھی ہوسکتی ہے جس میں منتخب وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی جان چلی گئی تھی، دوسری صورت میں ایک اور منتخب وزیراعظم کی تاحیات نااہلی سامنے آ سکتی ہے، وفاقی دارالحکومت کے سنجیدہ حلقے آج 18 جنوری کو شاہراہ دستور کی دو عمارتوں میں شروع ہونے جارہی دو مقدمات کی سماعت کو نہائت اھم قرار دے رہے ہیں جن میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں مریم نواز کی احتساب کیس میں اپیل اور الیکشن کمیشن میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کی پھر سے کھلنے والی سماعت ہے، “واقفان حال” کا کہنا ہے کہ دوسرے مقدمے میں ہدف شخصیت اگر 27 دسمبر 2007 کو ملک کی منتخب وزیراعظم کے انجام سے بچ بھی گئی تو لندن مقیم سابق وزیراعظم کے اس انجام سے شائد نہ بچ پائے جس میں تین بار رہ چکے منتخب وزیراعظم کو عمر بھر کے لئے پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنے کا ناہل ٹھہرا دیا گیا تھا.
اسلام آباد میں باور کیا جاتا ہے کہ اس حوالے سے پاکستان میں طاقت کے مراکز امریکہ اور مغرب کے مقابلے میں بیجنگ کا اثر و رسوخ خاطر میں لانے سے قاصر ہیں جو تاھم ملکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی غرض سے جارحانہ وکٹ تک پہ کھیل رہا ہے تاکہ کسی طرح “کپتان” کو بچایا جاسکے جبکہ واشنگٹن 3 نومبر 2007 کی تاریخ دہرانے پر مصر ہے جب پاکستان میں صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے “ایمرجینسی پلس” کے نفاذ پر وطن واپسی کے لئے ترکی جاتے ہوئے امریکی قومی سلامتی کی مشیر کونڈا لیزا رائس نے شدید ردعمل دکھایا تھا، ڈاکٹر رائس نے اپنے فوری ردعمل میں کہا تھا یہ اقدام کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اب پاکستان میں فوری نئے الیکشن ہوں گے، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ امریکی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کی دھمکی کا عملی نتیجہ جلد سامنے آگیا تھا تاھم اس کی قیمت اس حادثے کی صورت میں چکانا پڑی تھی جس میں دو بار کی منتخبہ وزیراعظم کی شہادت ہوئی، ان کا مزید کہنا ہے کہ ایسا نہ بھی ہوا تو اس کا قوی امکان موجود ہے کہ قوم ایک اور وزیراعظم کی نااہلی کے لئے تیار رہے کیونکہ “بڑے گھر” پر ابھی تک تو پینٹاگون کا اثر و نفوذ حاوی نطر آتا ھے.
دوسری طرف اپوزیشن کی مقبول ترین اور سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (نواز ) میں ایک نیا فور ممبر گینگ نمودار ہوا ہے جس نے پچھلے دنوں ایک طرف تو پارٹی قائد کو ان ہاؤس تبدیلی کے آپشن پر منانے تو دوسری طرف “بڑے گھر” کو اپنے حق میں رام کرنے کی کوشش کی یہ الگ بات کہ یہ دونوں کوششیں ناکام ٹھہریں، پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق یہ ساری تگ و دو نون لیگ کے صدر شہباز شریف کی ایماء پر کی گئی جو بدقسمتی یا خوش قسمتی سے بار اور نہ ہوئی، اس سلسلے میں پنڈی جانے والوں میں پارٹی کے وہی چار مرکزی رہنما شامل تھے جن کے نام منظوری کے لئے لندن میں پارٹی قائد نواز شریف کو پیش کئے گئے، ان میں خُود شہباز شریف، سابق “پہاڑیا” وزیراعظم، سابق سپیکر قومی اسمبلی اور ایک سابق لیگی وزیر خزانہ کا نام شامل ھے مگر اس سارے ایپی سوڈ کا دلچسپ ترین پہلو یہ ہے کہ جس شخصیت کو لندن بھیجا گیا اس نے پارٹی کا شریف ترین لیڈر کی شہرت رکھتے ہوئے ایک شاطر سیاست دان کی شکل میں سامنے آ کر سب کو حیران کر دیا.
واضح رہے کہ نون لیگ کے صدر شہباز شریف خود تو چونکہ ملک سے باہر جا نہیں سکتے تھے لہٰذا انہوں نے اپنے ھم خیال ایک ایسے پارٹی لیڈر کو لندن بھیجنے کے لئے چُنا جس کے بارے یہ خیال نہیں اسکتا تھا کہ وہ بھی “امیدوار” ہو سکتے ہیں جبکہ موصوف نے ایسی شرافت دکھائی کہ دونوں “شریفوں” کو ہکا بکا کردیا، معلوم ہوا ہے کہ سابق سپیکر قومی اسمبلی نے “ایوان فیلڈ” جا کر نہ صرف “بڑے بھائی” کی عدالت میں شہباز شریف کا مقدمہ لڑنے کی بجائے منظوری کے لئے 4 نام پیش کر دیئے بلکہ دونوں” شریفوں” کو یہ سرپرائز بھی دیا کہ ان چار امیدواروں میں خُود کو ٹاپ کینڈیڈیٹ کے طور پر رکھا، ذرائع کے مطابق عبوری مدت کے وزیراعظم کے 4 امیدواروں میں سردار ایاز صادق، شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے نام شامل تھے تاھم بتایا جاتا ہے کہ پارٹی قائد نواز شریف نے نہ صرف عبوری سیٹ اپ کی حمایت پر راضی ہوجانے سے صاف انکار کر دیا بلکہ ایسی تجویز لانے کا برا مناتے ہوئے اس پر شدید برہمی کا اظہار کیا.
ذرائع کے مطابق “جلاوطن” وزیراعظم نے “پیغام بر” کو ایک طرح سے شٹ اپ کال دیتے ہوئے نہ صرف اپنی لاسٹ کمٹمنٹ سے ٹس سے مس ہونے سے انکار کر دیا بلکہ خصوصی ایلچی پر واضح کر دیا کہ 13 جولائی 2018 سے لے کر اب تک وہ جو آخری مبینہ ڈیل کر چکے ہیں اس سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے، تیرہ جولائی دو ہزار اٹھارہ کو نواز شریف نے بیٹی کے ہمراہ وطن لوٹ کر ایئرپورٹ بلکہ جہاز ہی میں خُود کو نیب کے حوالے کر دیا تھا جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنی آخری مبینہ ڈیل میں پنڈی کو گارنٹی دی تھی کہ وہ موجودہ سیٹ اپ کو کسی صورت ڈسٹرب نہیں کریں گے اور یہ کہ وہ صرف فریش الیکشن چاہتے ہیں جس میں ادارے غیر جانبدار رہیں.
