سوشل میڈیا پر صدارتی نظام کے مخالف اور حامی آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ صدارتی نظام کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ ایک ڈکٹیٹرشپ کا نظام ہے جو سابق آمروں کا نافذ کردہ تھا۔ جبکہ دوسری جانب اس کے حامی اس سسٹم کے فوائد گنوا رہے ہیں۔ بہرحال پاکستانی ٹویٹر پر #ملک_کی_بقا_صدارتی_نظام ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔
خان صاحب آپکے تمام وزراء اپوزیشن کے پیچھے پڑیں ہیں۔۔۔جبکہ انکو اپنی وزارت کی کارکردگی کواجاگر کرنا چاہیے۔۔عوام نے کارکردگی پر ووٹ دینا ہے ۔۔ اپوزیشن پر بولنے پر نہیں۔۔@ImranKhanPTI
#ملک_کی_بقا_صدارتی_نظام— Bilal Ahmad Khan🇵🇰🇵🇸 (@Connect_Bilal) January 18, 2022
صدارتی نظام کے حق میں بات کرنے والے صارفین کا ماننا ہے کہ پارلیمانی سسٹم انتہائی فرسودہ ہو چکا ہے۔ اس میں حکومت کی تشکیل کیلئے لوگوں کو خریدا جاتا ہے۔ نہ پاکستان میں انصاف نام کی کوئی چیز ہے اور نہ ہی عدالتیں مقدمات کے فیصلے کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتیں بھی عوام کیلئے کچھ کرنے کی بجائے دیگر سیاسی پارٹیز کے ہاتھ بلیک میل ہوتی رہتی ہیں۔
صدارتی اور پارلیمانی جمہوریت ایک ہی کھوٹے سکے کے دو رخ ہیں. بس یہ ایک اور ٹرک کی بتی ہے جسکے پیچھے کچھ سادہ لوح لوگوں کو لگایا جا رہا ہے.#Time4Khilafah #ملک_کی_بقا_صدارتی_نظام
— 🏳️🏴 Call For Khilafah! 🏳️🏴 (@khilafah_1442) January 18, 2022
حامیوں کا مزید ہے صدارتی سسٹم ہی دراصل اسلامی نظام حکومت کے نزدیک تر ہے۔ صارفین اس حوالے سے امریکا کی مثالیں پیش کر رہے ہیں کہ امریکا آج اگر ترقی یافتہ ملک ہے تو اس کی بنیادی وجہ صرف صدارتی نظام ہے۔ کیونکہ صدر اپنے فیصلوں میں خود مختار ہوتا ہے۔ اس کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں۔
گدلا پانی جگ میں رکھیں یا بالٹی میں،دودھ نہیں بنے گا
عمران خان تمام تر دستیاب غیرمنتخب افراد آزما چکے جو صدارتی نظام کی واحد خوبی ہے
پنجرہ بدلنے سے کوا مور نہیں بنے گا
بہتری کے لئے اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کم کرنا ہو گی یا کم از کم ٹیلنٹڈ لوگ سلیکٹ کرنا ہوں گے#ملک_کی_بقا_صدارتی_نظام— سچی گل (@muhamma97536071) January 18, 2022
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے تو یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اس ملک میں جمہوری نہیں بلکہ صدارتی نظام چاہتے تھے۔ اس حوالے سے ان کا ایک خط بھی تھا جسے چھپا لیا گیا ہے۔ قائداعظم صدارتی نظام حکومت کے خواہشمند تھے۔ انہوں نے 10 جولائی 1947ء کو کھل کر اس کا اظہار بھی کیا تھا۔
#ملک_کی_بقا_صدارتی_نظام pic.twitter.com/Z24rRsc43l
— Asad Majeed (@AsadMajeed_01) January 18, 2022
ایک صارف کا کہنا تھا کہ پارلیمانی سسٹم میں وزیراعظم صرف منتخب اراکین کو ہی وزارتیں دے سکتا ہے جو اپنے شعبے کے ماہر نہیں بلکہ سیاستدان ہوتے ہیں جبکہ صدارتی نظام حکومت میں ایسی کوئی پابندی یا شرط ہی نہیں ہے۔ اس میں ماہرین کو وزارتیں دی جا سکتی ہیں۔
صدارتی نظام کیلئے لڑنے والے مجاہدین بتا سکتے ہیں کہ پہلا صدر کون ہوگا؟ اگر اپ خان سے ہی امید لگائے بیٹھے ہیں تو اپ لوگ دنیا کے انتہائی بے وقوف لوگ ہونگے۔
#ملک_کی_بقا_صدارتی_نظام— Zafar Ali (@zafarali1154) January 18, 2022
ایک سوشل میڈیا صارف نے معروف عالم دین اور سکالر ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انگریزوں سے وراثت میں ملی پارلیمانی نظام کی لعنت کو چھوڑ کر صدارتی سسٹم کا نفاذ کر دیا جائے کیونکہ یہ نظام خلافت کے قریب ترین ہے۔ ترقی یافتہ قوموں نے ہم سے ہی صدارتی سسٹم لیا تھا۔امریکی صدارتی نظام بھی دراصل خلافت سے مستعار لیا گیا تھا جس میں مواخذہ بھی شامل ہے۔ آپ نے دیکھا کہ جیسے ہی مواخذے کی بات ہوئی تو نکسن بھاگ کھڑا ہوا۔
The only solution is Presidential System@ImranKhanPTI#ملک_کی_بقا_صدارتی_نظام pic.twitter.com/D29oHdyONk
— Waqas Anjum (@WaqasAn97299297) January 18, 2022
دوسری جانب صدارتی نظام حکومت کے مخالفین نے کہا کہ صدارتی نظام آمروں کا یہ آمروں نافذ کردہ ہے۔ یحییٰ خان کے دور میں پاکستان دو لخت ہوا، ضیاء الحق کے دور میں ہمیں فرقہ پرستی، افغان مہاجرین کا تحفہ ملا اور مشرف دور میں طالبان پاکستان پر نازل ہوئے۔
جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں! اور عوام کو خود مختار بنانے کا بھی ہامی ہوں۔ مگر اس نظریے پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ صدارتی نظام ہی فل وقت اس سب کے لیے ضروری ہے!#ملک_کی_بقا_صدارتی_نظام
— Sh. Maaz🇵🇰 (@ShGee166) January 18, 2022
مخالفین کا کہنا تھا کہ صدارتی نظام میں پاکستان ٹوٹا، سیاچن الگ ہوا، سوات پر طالبان کا قبضہ ہوا اور پاکستان پر دہشتگردی کا ٹھپہ لگا۔ صدارتی نظام ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں کیونکہ پرویز مشرف اور آصف زرداری صدارتی نظام حکومت میں جو کر کے گئے ہیں سب کے سامنے ہے۔ بعض کا کہنا تھا کہ پارلیمانی اور صدارتی نظام ایک ہی کھوٹے سکے کے دو رخ ہیں۔ بس یہ ایک اور ٹرک کی بتی ہے جسکے پیچھے کچھ سادہ لوح لوگوں کو لگایا جا رہا ہے۔
#ملک_کی_بقا_اسلامی_نظام
صرف اور صرف اسلامی نظام
صدارتی نظام بھی ایک دھوکا ہے
کیونکہ پاکستان میں مشرف اور زرداری صدارتی نظام حکومت میں جو کر کے گئے ہیں سب کے سامنے ہے
لہٰذا ابھی بھی وقت ہے
اپنے اصل کی طرف لوٹ آئیں#ملک_کی_بقا_صدارتی_نظام— راجپوت صاحب (@RajpootSahib007) January 18, 2022
ایک صارف نے لکھا کہ گدلا پانی جگ میں رکھیں یا بالٹی میں،دودھ نہیں بنے گا۔ عمران خان تمام تر دستیاب غیرمنتخب افراد آزما چکے جو صدارتی نظام کی واحد خوبی ہے۔ پنجرہ بدلنے سے کوا مور نہیں بنے گا۔ بہتری کے لئے اسٹیبلشمنٹ کو مداخلت کم کرنا ہو گی یا کم از کم ٹیلنٹڈ لوگ سلیکٹ کرنا ہوں گے۔
جیسے کہ پاکستان میں کبھی صدارتی نظام نہیں رہا۔ یاد رہے جنرل ایوب، جنرل یحییٰ، جنرل ضیا اور جنرل مشرف کی ڈکٹیٹرشپس صدارتی طرز حکومت ہی تھیں۔ ان سب میں پاکستان ٹوٹا، سیاچن الگ ہوا، سوات پر طالبان کا قبضہ ہوا اور پاکستان پر دہشتگردی کا لیبل لگا #ملک_کی_بقا_صدارتی_نظام
— Hina Khan (@HinaK47) January 18, 2022
صارف بلال احمد خان نے لکھا کہ خان صاحب آپ کے تمام وزراء اپوزیشن کے پیچھے پڑیں ہیں جبکہ ان کو اپنی وزارت کی کارکردگی کو اجاگر کرنا چاہیے۔ عوام نے کارکردگی پر ووٹ دینا ہے ، اپوزیشن پر بولنے پر نہیں۔
پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم پابند ہوتا ہے کہ صرف منتخب افراد کو وزارتیں دے سکتا ہے اور وہ افراد محض سیاستدان ہوتے ہیں، اپنے شعبے کے ماہر نہیں
صدارتی نظام میں منتخب افراد کی شرط نہیں ہے اس لیئے کسی بھی ماہر کو وزارت دی جا سکتی ہے#ملک_کی_بقا_صدارتی_نظام@Shazi_Ivf
— The All-Rounder (@PAK_All_Rounder) January 18, 2022
ظفر علی نامی صارف کا کہنا تھا کہ صدارتی نظام کیلئے لڑنے والے مجاہدین بتا سکتے ہیں کہ پہلا صدر کون ہوگا؟ اگر اپ خان سے ہی امید لگائے بیٹھے ہیں تو اپ لوگ دنیا کے انتہائی بے وقوف لوگ ہونگے۔
