سابق بھارتی کھلاڑی اور کانگریس کے لیڈر نوجوت سنگھ سدھو کے قریبی دوست اور مشیر محمد مصطفیٰ پر اشتعال انگیز تقریر کرنے کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔سدھو کے مشیر محمد مصطفیٰ 20 فروری کے انتخابات کے لئے مالیر کوٹلہ سے کانگریسی امیدوار رضیہ سلطانہ کی انتخابی تشہیر کے لئے ایک کارنر میٹنگ میں خطاب کر رہے تھے۔سدھو کے مشیر محمد مصطفیٰ کی اس تقریر کی وڈیو وائرل ہو چکی ہے، جس میں وہ انتظامیہ کے خلاف سخت زبان استعمال کر رہے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے جلسے کے مقام پر کسی دوسری جماعت کا جلسہ رکھنا نا مناسب ہے۔واضح رہے کہ محمد مصطفیٰ 20 جنوری کو ایک عوامی جلسے کو خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اس دوران کہا تھا کہ اگر ان کے پروگرام کے پاس کسی اور کے پروگرام کو اجازت دی گئی تو اس کے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔دراصل، محمد مصطفیٰ جہاں خطاب کر رہے تھے، وہیں ایک دوسری پارٹی کا پروگرام چل رہا تھا اور اس میں لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر محمد مصطفیٰ آگ بگولہ ہوگئے تھے۔انہوں نے کہا تھا، ’میں ان کا کوئی جلوس نہیں ہونے دوں گا، میں ایک قومی سپاہی ہوں، میں آر ایس ایس کا ایجنٹ نہیں ہوں، جو ڈر کر گھر میں گھس جاوں گا‘۔مبینہ ویڈیو میں سابق ڈی جی پی محمد مصطفیٰ اپنی بیوی اور مالیرکوٹلہ سے کانگریس کے امیدوار اور کابینہ وزیر رضیہ سلطانہ کے لئے انتخابی تشہیر کر رہے تھے۔ اس دوران ان پر اشتعال انگیز تقریر کرنے اور اپنے خطاب میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے کا الزام لگا۔محمد مصطفیٰ نے سیاسی پارٹی اور ضلع انتظامیہ کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اور یہ لوگ میری بات کو اچھی طرح سے سمجھ لیں، اگر میں بگڑ گیا تو کسی کے بھی قابو میں نہیں آئوں گا۔ انہوں نے انتظامیہ کو وارننگ دی کہ جہاں بھی ان کا پروگرام ہے، وہاں مخالف جماعتوں کے پروگرام کو اجازت نہیں ملنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ ایسی حرکت ہوئی تو خدا قسم گھر میں گھس کے ماروں گا، میں قوم کے لئے لڑ رہا ہوں، ووٹ کے لئے نہیں لڑ رہا ہوں۔

