کیا آپ کو معلوم ہے کہ ‘ترابزون حصر’ کے نام سے معروف، طلائی تاروں کو چٹائی کی طرح بُن کر بنائے گئے، زیورات ترکی سے مخصوص زیورات ہیں؟
‘ترابزون حصر’ بُنائی کے آغاز کی تاریخ 7 ویں قبل مسیح سےمتعلق اسکوتی قوم تک جاتی ہے۔ بُنائی کا یہ طریقہ زمانہ قدیم میں جان کی حفاظت کے لئے استعمال کی جانے والی زرہوں اور تلوار لٹکانے کی بیلٹ کی تیاری میں استعمال کیا جاتا تھا۔
بہت محنت کا متقاضی بُنائی کا یہ فن ایک دستکاری ہے اور طلائی یا نقرئی تاروں کے ساتھ چُوڑیاں، کنگن اور گلو بند بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ترک ہنر مندوں کی یہ دستکاری سینکڑوں سالوں سے نسل در نسل چلتی چلی آتی ایک میراث ہے۔ ترابزون حصر زیورات ترکی کے بحیرہ اسود علاقے میں صرف ضلع ترابزون میں بنائے جاتے ہیں۔ یہ فن، روسی بغاوت کے دوران ترابزون میں پناہ لینے والے ،قاقیشئن باشندے ترابزون لائے۔ بعد میں ترابزون کی عورتوں نے یہ دستکاری اختیار کر لی۔ ابتداء میں ترابزون حصر زیورات نسبتاً کم قیمتی دھات یعنی چاندی کے تاروں سے اور بعد میں طلائی تاروں سے بھی بنائے جانے لگے۔ ترابزون کی عورتیں کئی دنوں کی محنت سے تاروں کی بُنائی سے یہ زیورات بناتی ہیں ۔ دستکاری ہونے کی وجہ سے ترابزون حصر بہت قیمتی زیورات شمار ہوتے ہیں۔ 0،3 ملی میٹر باریک چاندی یا پھر سونے کے تاروں سے بنایا گیا ترابزون حصر کنگن تقریباً 15 دن میں تیار ہوتا ہے۔
