English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستانی معیشت کا مستقبل کیا ہے؟ شفقنا خصوصی

القمر
پاکستان میں نصف مالی سال کے دوران معاشی مشکلات کا مطلب ہے کہ حکومت اور پالیسی ساز مشکل میں ہیں۔ ایک ایسا بجٹ جس کا مقصد ووٹرز کو خوش کرنا اور سیاسی اثاثوں کو برقرار رکھنا تھا الٹا نہ صرف ووٹرز کو سخت خفا کرگیا بلکہ سیاسی اثاثوں کو بھی خطرات لاحق کرگیا۔ مسلسل معاشی بدحالی کا مطلب بہت سارے تجزیہ نگاروں کے مطابق حکومت کے دن گنے جا چکنے کا ہے۔پاکستان اس دوران ایک بڑے تجارتی خسارے کا سامنا رہا ہے کیونکہ پاکستان کی درآمدات  مالی سال کے پہلے نصف عرصے میں 6۔40 بلین ڈالر تک جا پہنچی جبکہ اس کی برآمدات کا حجم اس عرصے میں محض 1۔15 بلین ڈالر رہا۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ اس عرصے میں دوگنا سے بھی زیادہ ہوگیا۔ تاہم اس دوران ترسیلات زر جن کی شرح 8۔15 بلین ڈالر تک رہی نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 10 بلین ڈالر تک محدود کرنے میں مدددی۔ تاہم جون تک حکومت نے جس بات کی منصوبہ سازی کی کی تھی یہ اس کے قریب ترین بھی نہیں تھا۔ 
اس لیے اس کے نتیجے میں معاشی خرابی نے بہت سارے سٹیک ہولڈرز کو حیران کر دیا کیونکہ معاشی منصوبہ جس کی بنیاد جون 2021 میں رکھی گئی تھی اور اس کے لیے معاشی نمو کے لیے تمام ممکنہ استعداد فراہم کر دی گئی تھی وہ بہت جلد ناکامی کا شکار ہوگیا۔ پس کس جگہ غلطی ہوئی کہ وزیر خزانہ کو اپنے منصوبے کو از سر نو تشکیل دینا پڑی تاکہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے معاشی مسائل کو حل کر سکے جو کہ اس وقت بدترین صورتحال سے دوچار ہے۔ حکومت ایک انتخابی بجٹ کی مدد سے نمو کو بڑھانا چاہتی تھی جو کہ پاکستانی معیشت کا اصل چہرہ ہے اور تاریخی طور پر پاکستانی معیشت کو بیان کرتا ہے۔ اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ پاکستانی شہریوں میں بچت کا رحجان بہت کم ہے ۔ بہت سارے پاکستانی شہری درآمد شدہ اشیاء پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں اور مقامی طور پر تیار شدہ اشیاء کو ترجیح نہیں دیتے۔
ایک ایسا ملک جس کے بارے میں مرتبہ یہ شبہ کیا گیا کہ یہ زراعت کےمیدان میں خودکفیل ملک بن کر ابھرے گا تاہم اس وقت یہی ملک خوراک کا درآمدی بن چکا ہے۔ اسی طرح پاکستان خام تیل اور ایل این جی کے لیے بھی بھارتی درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کا نقصان یہ ہے کہ ان کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیزی سے اوپر جارہی ہیں۔ اور یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان اس وقت تک تجارتی خسارے اور بدحالی معیشت کا شکار رہے گا جب تک وہ درآمدی اشیاء پر اپنا انحصار کم نہیں کرتا۔ ملکی معیشت کی نمو کو ازسر نو نئی شکل دیے بیر بلند نمو کی توقع رکھنا سوائے بے وقوفی کے کچھ نہیں۔ اس کے علاوہ بدترین تجارتی خسارے نے پاکستانی روپے کو زبردست دباؤ میں لا ڈالا ہے جبکہ بڑھتی ہوئی درآمدات نے چیزوں کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ دسمبر میں ماہانہ کنزیومر پرائس انڈیکس 3۔12 فیصد تھا جو کہ جنوری میں مزید اوپر جائے گا۔
اس سب کے مابین بین الاقوامی مالیاتی ادارے نے پاکستان کو مالی سال کی ایڈجسٹمنٹ کے لیے آسٹریٹی اقدامات کی ایک لسٹ تھما دی ، جس کا مقصد مثبت پالیسی ریٹ کو بڑھانا اور سٹیٹ بینک کی خودمختاری میں اضافہ کرنا تھا۔نتیجتا سٹیٹ بینک نے سود کی شرح میں دوگنا کے قریب یعنی 75۔9 فیصد تک اضافہ کر دیا جبکہ حکومت نے سٹیٹ بنک کی خودمختاری کی قانون سازی مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک منی بجٹ بھی پیش کر دیا۔ پس اس طرح پاکستان کو بلین ڈالرز کی امداد ملنے کی راہ ہموار ہوگئی۔  اس وقت تحریک انصاف کو معاشی پالیسی کو از سر نو ترتیب دینے کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت کو معیشت کو نمو کی طرف لے کر جانے اور بین الاقوامی ادائیگیوں میں توازن لانے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے امداد نعمت مراقبہ ہوگی جو کہ روپے استحکام دینے کے لیے بہت ضروری ہے۔ مزید برآں عالمی سطح پر اشیائے خورونوش اور توانائی کی قیمتوں میں کمی افراط زر کی شرح کو کم کرنے میں مدد دے گی۔
وزیر اعظم عمران خان، وزیر خزانہ شوکت ترین اور معیشت سے منسلک تمام سٹیک ہولڈرز کے لیے آنے والا وقت مشکل ہوگا۔ جب کہ آنے والے وقت میں معاشی چیلنجز خوفناک صورتحال اختیار کر لیں گے مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ مسائل ناقابل حل ہیں۔
منگل، یکم فروری 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post پاکستانی معیشت کا مستقبل کیا ہے؟ شفقنا خصوصی appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے