امریکہ نے کہا ہے کہ نئے سال میں شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے میزائل تجربوں کے مقابل سفارتی راستوں کا انتخاب کیا جائے گا۔
یونہاپ خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکہ وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے معمول کی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہم، پیونگ یانگ انتظامیہ کے میزائل تجربوں کے مقابل سفارتی راستوں کی تلاش میں ہیں۔ دوسری طرف شمالی کوریا کو ان اقدامات کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لئے بھی مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔
پرائس نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کا بیلسٹک اور جوہری اسلحہ پروگرام ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا مرکز شمالی کوریا کا جوہری پروگرام ہے۔ کوریا جزیرہ نما کو جوہری اسلحے سے پاک کرنے کے لئے ہم نے سفارتی راستوں پر مبنی موقف اختیار کیا ہے۔
پرائس نے،اسلحہ پروگرام کے ساتھ تعاون کی وجہ سے شمالی کوریا کی 8 شخصیات اور اداروں پر، پابندیاں لگانے کی یاد دہانی کروائی اور کہا ہے کہ ان پابندیوں پر ہم اقوام متحدہ کی سطح پر بھی غور کر رہے ہیں۔
امریکہ وزارت دفاع کے ترجمان جان کربی نے بھی ذرائع ابلاغ کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ شمالی کوریا کے مقابل بہترین راستہ ڈپلومیسی کا راستہ ہے۔ واشنگٹن بغیر کسی پیشگی شرط کے پیونگ یانگ انتظامیہ کے ساتھ ڈائیلاگ کے لئے تیار ہے۔
کربی نے کہا ہے کہ ہمیں شمالی کوریا کے پیش رفت کی طرف مائل بیلسٹک میزائل پروگرام پر اندیشوں کا سامنا ہے۔
انہوں نے پیونگ یانگ انتظامیہ کو تحریکی کاروائیاں بند کرنے، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے فیصلوں پر عمل کرنے اور ہمسایہ ممالک کے لئے خطرات تشکیل دینے سے پرہیز کرنے کی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ شمالی کوریا نے اتوار کے دن طویل مسافت کے بیلسٹک میزائل ہواسونگ۔12 کا تجربہ کیا۔ یہ تجربہ رواں سال کے آغاز سے اب تک 7 واں میزائل تجربہ تھا۔
