سندھ کے وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے ساتھ معاہدے کے تحت ہی ترامیم کی جائیں گی، معاہدے سے متعلق ترامیم کو ایک کمیٹی دیکھے گی ۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ کابینہ نے لوکل گورنمنٹ قانون میں کچھ ترامیم کی منظوری بھی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات تک یوسیز اور متعلقہ ادارے کام جاری رکھیں گے۔
گزشتہ روز کے عدالتی فیصلے پر سعید غنی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 2013 کے بلدياتی قانون پر کچھ نہيں کہا بلکہ 2013 کے بلدياتی قانون کی حيثيت کو تسليم کيا ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق 5رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے اور کمیٹی فیصلے کو دیکھے گی کہ کہاں کہاں اپیل میں جایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے قانون کی شکل مختلف تھی، اب فیصلہ آیا ہے تو قانون کچھ اور ہے، فيصلے سے وفاقی حکومت جو کام کروا رہی ہے اس پر بھی فرق پڑے گا۔
سعید غنی نے واضح کیا کہ پاکستان اسٹیل مل کی زمین سندھ حکومت کی ملکیت ہے اس لیے پاکستان اسٹیل مل زمین کسی بھی ادارے کو نہیں بھیج سکتا۔
سندھ کابینہ میں کوآپریٹو اور وکٹوریہ مارکیٹ کے متاثرین کو معاوضے کی منظوری بھی دی گئی۔
واضح رہے کہ سندھ ترمیمی بلدیاتی قانون 2021ء میں تبدیلی کے لیے جماعتِ اسلامی اور حکومت سندھ کے درمیان 27جنوری کی شب معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی کے باہر 27 روز تک جاری رہنے والا دھرنا ختم کر دیا تھا۔
معاہدے کے مطابق صحت سے متعلق ادارے دوبارہ بلدیاتی اداروں کو دے دئیے جائیں گے،صوبائی حکومت یو سی کو ماہانہ اور سالانہ فنڈز کی فراہمی آبادی کی بنیاد پر ہوگی۔
تحریری معاہدے کے مطابق تعلیم سے متعلق ادارے بلدیاتی اداروں کے سپرد کر دیئے جائیں گے۔،صوبائی فنانس کمیشن بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات سنبھالنے کے بعد دیا جائے گا۔
علاوہ ازیں موٹر وہیکل ٹیکس سے حاصل رقم شہری حکومت کے حصے کے مطابق ادا کی جائے گی۔،بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ڈیولپمنٹ اتھارٹیز میں میئر اور چیرمینز کو اختیارات دئیے جائیں گے۔
سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ میئر کراچی کے ماتحت ہوں گے۔معاہدے کے تحت کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دلانے کیلئے سندھ حکومت بلدیہ عظمیٰ کی بھرپور مدد کرے گی۔ جبکہ کراچی میں اضافی پانی کے منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائے گا۔جماعت اسلامی کے مطالبہ پر سندھ حکومت طلبہ یونین کے کو بحال کرے گی۔
جن نکات پر اتفاق نہیں ہوا اس کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔

