English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فیس بک صارفین کی تعداد میں کمی کے باعث کمپنی میٹا کو 230 ارب ڈالرز کا نقصان

القمر

فیس بک کی جانب سے 2 فروری کو پہلی بار سوشل نیٹ ورک کو روزانہ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں کمی کا اعتراف کیا گیا تھا۔

اور اس اعتراف کے بعد 3 فروری فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا کی مارکیٹ ویلیو سے 230 ارب ڈالرز سے زیادہ کمی آئی ہے جو تاریخ میں کسی بھی امریکی کمپنی کا ایک دن میں ہونے والا سب سے زیادہ نقصان بھی ہے۔

مارکیٹ ویلیو میں 26.4 فیصد کمی کمپنی ک مستقبل کے حوالے سے خدشات کے باعث ہوئی کیونکہ پہلی بار دنیا کے مقبول ترین سوشل نیٹ ورک کو ڈیلی یوزر کی تعداد کی کمی کا سامنا ہوا۔

اکتوبر سے دسمبر 2021 کی سہ ماہی میں روزانہ فیس بک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی کے مقابلے میں کمی آئی اور وہ ایک ارب 93 کروڑ سے کم ہوکر ایک ارب 92 ہوگئی۔

اسی طرح کمپنی کے اشتہاری ماڈل کو بھی ایپل کے آپریٹنگ سسٹم میں پرائیویسی تبدیلیوں سے دھچکا لگا جس کے بارے میں فیس بک کا کہنا ہے کہ اسے اربوں ڈالرز کا نقصان ہوسکتا ہے۔

فیس بک کی حصص کی قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں مارک زکربرگ کے اثاثوں میں بھی 31 ارب ڈالرز کی کمی آئی۔

مگر اتنی زیادہ کمی کے باوجود مارک زکربرگ اب بھی لگ بھگ 90 ارب ڈالرز کے مالک ہیں۔ میٹا کو ہونے والا نقصان کسی بھی امریکی پبلک کمپنی کا سب سے بڑا نقصان ہے اور یہ کمپنی کے کے لیے مایوس کن ہے جس کے بارے میں سرمایہ کار ہمیشہ حیران کن ترقی کی توقع کرتے ہیں۔

میٹا کی جانب سے منافع میں بھی کمی کے بارے میں بتایا گیا جس کی وجہ میٹاورس کو تشکیل دینے کے لیے اخراجات میں اضافہ ہے۔

2 فروری کو سہ ماہی رپورٹ کے اجرا پر مارک زکربرگ نے کہا کہ انہیں کمپنی کے گزشتہ سال کے کام پر ‘فخر’ ہے مگر یہ بھی تسلیم کیا کہ کمپنی کو حریف ایپس بشمول ٹک ٹاک سے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔

میٹا کے ساتھ ساتھ دیگر سوشل میڈیا کمپنیوں بشمول ٹوئٹر اور اسنیپ کے حصص کی قیمتوں میں بھی کمی آئی۔

18 سالہ تاریخ میں پہلی بار فیس بک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں کمی

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کو 18 سال ہوگئے ہیں اور پہلی بار ایسا کچھ ہوا ہے جس کا سامنا اسے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

اور وہ ہے روزانہ اس سوشل نیٹ ورک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں کمی۔

جی ہاں فیس بک کی سرپرست کمپنی میٹا نیٹ ورکس نے بتایا ہے کہ اکتوبر سے دسمبر 2021 کی سہ ماہی میں روزانہ فیس بک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی کے مقابلے میں کمی آئی اور وہ ایک ارب 93 کروڑ سے کم ہوکر ایک ارب 92 ہوگئی۔

کمپنی کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ آمدنی کی شرح نمو بھی حریف کمپنیوں جیسے ٹک ٹاک اور یوٹیوب سے مسابقت کے نتیجے میں سست ہوسکتی ہے جبکہ اشتہارات دینے والوں نے بھی اپنے اخراجات میں کٹوتی کی ہے۔

کمپنی کی جانب سے سہ ماہی رپورٹ میں تاریخ میں پہلی بار صارفین کی تعداد میں کمی کے اعتراف کے نتیجے میں اس کے حصص کی قیمتوں میں 20 فیصد کمی آئی۔

اتنی بڑی کمپنی کے باعث کمپنی کی مارکیٹ ویلیو سے 200 ارب ڈالرز کا صفایا ہوگیا۔

رپورٹ سے عندیہ ملا کہ 2021 کی آخری سہ ماہی کے دوران فیس بک ایپ کو شمالی امریکا میں روزانہ 10 لاکھ صارفین سے محرومی کا سامنا ہوا، یہ وہ خطہ ہے جس سے کمپنی سب سے زیادہ آمدنی اشتہارات کے ذریعے کماتی ہے۔

شمالی امریکا کا یہ رجحان عالمی سطح پر فیس بک کو روزانہ استعمال کرنے والے افراد کی تعداد میں پہلی بار کمی کا باعث بنا۔

رپورٹ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کمپنی کے بانی مارک زکربرگ نے ٹک ٹاک سے بڑھتی مسابقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سروسز اس وقت شارٹ ویڈیوز جیسے ریلز کی جانب بڑھ رہی ہیں، ریلز اس وقت ہمارا سب سے زیادہ تیزی سے فروغ پانے والا فارمیٹ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال ریلز سےاسٹوریز یا فیڈز کی طرح آمدنی نہیں ہورہی۔

فیس بک کے بانی نے کہا کہ 2021 کی آخری سہ ماہی کے دوران کمپنی کی اولین ترجیحات میں 18 سے 29 سال کے افراد کو اپنی جانب کھینچنا بھی شامل تھا اور فیس بک کو ٹک ٹاک سے بہتر مقابلے کے لیے مختصر ویڈیو فارمیٹ کی جانب منتقل کیا گیا۔

اگرچہ صارفین کی تعداد میں کمی آئی مگر اس سہ ماہی کے دوران کمپنی نے اشتہارات کے بزنس سے 32.6 ارب ڈالرز کمائے۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے