English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاک-چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ مضبوط اور لازوال ہے، وزیراعظم

القمر

وزیراعظم عمران خان کی گزشتہ روز بیجنگ آمد کے بعد آج پاکستان اور چین نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کے تحت صنعتی تعاون کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت اور چینی قیادت سے ملاقات کے لیے 4 روزہ دورے پر چین میں موجود ہیں۔

وزیرمملکت اور چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ محمد اظفر احسن اور چیئرمین نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (این آر ڈی سی) ہی لیفنگ نے معاہدے پر دستخط کیے۔

صنعتی تعاون کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) کا مقصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنا، صنعت کاری اور اقتصادی زونز کی ترقی کو فروغ دینا اور عوامی اور سرکاری اور نجی دونوں طرح کے منصوبوں کا آغاز، منصوبہ بندی، عمل درآمد اور ان کی نگرانی کرنا ہے۔

جے ڈبلیو جی میں چین کے ساتھ شمولیت کا مقصد پاکستان میں لیبر کی پیداواری صلاحیت اور صنعتی مسابقت کو بڑھانے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور اس میں تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے ہے۔

2018 میں منعقدہ سی پیک کی جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کے دوران دونوں فریقین نے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جو فریقین کے درمیان صنعتی تعاون کے حوالے سے مستقبل کی مصروفیات کی وجہ بنا۔

سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جس کا مرکز اسپیشل اکانومک زونز (ایس ای زیڈ) کی ترقی اور صنعت کاری ہے، اس صورتحال میں ایک جامع فریم ورک معاہدے کی ضرورت ناگزیر ہوگئی تھی۔

توانائی اور انفرااسٹرکچر کے حوالے سے سی پیک کے ارلی ہارویسٹ منصوبوں کے لیے بھی اسی طرح کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔

بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) کی مسلسل کوششوں سے دونوں فریقین نے موجودہ میمورینڈم (ایم او یو) کو 2020 کے ایک فریم ورک ایگریمنٹ میں شامل کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔

اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور وزیر اعظم کی منظوری کے بعد بی او آئی نے نومبر 2020 میں این ڈی آر سی کے ساتھ اس فریم ورک کا ڈرافٹ شیئر کیا جسے سی پیک کے دوسری فیز کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا۔

فریم ورک معاہدے پر دستخط کی تقریب وزیر اعظم کے دورے کا ایک اہم نتیجہ ہے اور چین کی جانب سے اس کا ٹاپ ایجنڈا ہونا سی پیک میں ان کی دلچسپی کا ثبوت ہے۔

کورونا کے باوجود سی پیک منصوبوں پرکام بتدریج آگے بڑھا، وزیر اعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ دونوں ممالک کے عوام کو ٹھوس فوائد پہنچا رہا ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے چین کے قومی ترقی اور اصلاحاتی کمیشن کے چیئرمین ہی لائفنگ سے ورچوئل اجلاس کے دوران بات چیت کی۔

اجلاس میں سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل کے اقدامات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاک ۔ چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ مضبوط اور لازوال ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے باوجود سی پیک کے تمام منصوبوں پر کام بتدریج آگے بڑھا۔

انہوں نے اس سلسلے میں چین کے قومی ترقی اور اصلاحاتی کمیشن اور دونوں اطراف کے متعلقہ حکام کی کوششوں کو سراہا۔

وزیراعظم نے سی پیک کے ارلی ہارویسٹ منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں نے پاکستان کے معاشی منظر نامے کو تبدیل کردیا ہے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھی ہے۔

انہوں نے گوادر کو علاقائی تجارت اور صنعت کا مرکز بنانے کی کوششیں جاری رکھنے اور ایم ایل ون اور توانائی کے دیگر اہم منصوبوں پر جاری کام کو ترجیح دینے کا عزم ظاہر کیا۔

اس موقع پر چینی کمیشن کے چیئرمین نے کہا کہ چین گزشتہ 7 سالوں میں پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ کاری اور تجارتی پارٹنر بن گیا ہے اور دونوں فریقین مستقبل میں بھی مجموعی اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔

چینی کمیشن کے چیئرمین نے صنعت کاری، جدید زراعت، سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی و اقتصادی ترقی کے شعبوں میں پاکستان کی مدد کے لیے چین کی آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام متعلقہ چینی ادارے سی پیک منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے چین کے سرکاری اور نجی اداروں کو ترغیب دینے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

اس حوالے سے دونوں فریقین نے نئے گرین، ڈیجیٹل، صحت، تجارت اور صنعتی کوریڈور قائم کرنے کا فیصلہ کیا جس سے ان شعبوں کے ذیلی سیکٹرز کے لیے سلسلہ وار تعاون میں اضافہ ہوگا۔

اجلاس کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان کے بورڈ آف انویسٹمنٹ اور چین کے این ڈی آر سی کے درمیان صنعتی تعاون کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کا بھی خیر مقدم کیا جس کے تحت چین کے صنعتی یونٹس کو سی پیک کے خصوصی اقتصادی زونز میں تبدیل کرنے اور چین اور دیگر جگہوں سے سرمایہ کاری میں تیزی لانے کے لیے سہولت فراہم کی جاسکے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کا دورہ چین

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان وزرا کے وفد کے ہمراہ چین کے 4 روزہ اہم سرکاری دورے پر اسلام آباد سے روانہ ہوئے تھے، وزیر اعظم عمران خان دورے میں چین کی اعلیٰ قیادت ملاقاتیں کریں گے اور چین کے تجارتی وفود سے بھی ملیں گے۔

وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وفد میں وزیرِ خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیرِ خزانہ شوکت فیاض ترین، وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، مشیرِ قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، مشیرِ تجارت عبدالرزاق داؤد اور معاونِ خصوصی چین پاکستان اقتصادی راہداری خالد منصور شامل ہیں۔

وزیرِ اعظم چین میں سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے، وزیرِ اعظم عمران خان چینی صدر شی جن پنگ اور چینی پریمئیر لی کی چیانگ سے اہم ملاقاتیں کریں گے، اس کے علاوہ وزیرِ اعظم پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والے چینی سرمایہ کاروں کے وفود سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

قبل ازیں دورے سے متعلق بات کر تے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’21 مختلف شعبہ جات کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر وزیر اعظم عمران خان چینی قیادت سے گفتگو کریں گے۔

وزیر اعظم کے دورہ چین کے دوران زیر بحث آنے والے شعبہ جات میں سی پیک کے تحت قائم کیے جانے والے خصوصی اقتصادی زونز، تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور بڑی پیمانے پر چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی شامل ہیں۔

ایک بیان میں وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا وزیر اعظم، چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیر اعظم لی چیانگ سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے سربراہان دوطرفہ تعلقات کا مکمل جائزہ لیں گے، جس میں سی پیک سمیت تجارت اور اقتصادی تعاون پر خصوصی توجہ دی جائے گی‘۔

دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعظم چینی قیادت کی دعوت پر چین کا دورہ کر رہے ہیں۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے