وزیراعظم عمران خان کی گزشتہ روز بیجنگ آمد کے بعد آج پاکستان اور چین نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک)کے تحت صنعتی تعاون کے فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت اور چینی قیادت سے ملاقات کے لیے 4 روزہ دورے پر چین میں موجود ہیں۔
وزیرمملکت اور چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ محمد اظفر احسن اور چیئرمین نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (این آر ڈی سی) ہی لیفنگ نے معاہدے پر دستخط کیے۔
صنعتی تعاون کے لیے جوائنٹ ورکنگ گروپ (جے ڈبلیو جی) کا مقصد براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرنا، صنعت کاری اور اقتصادی زونز کی ترقی کو فروغ دینا اور عوامی اور سرکاری اور نجی دونوں طرح کے منصوبوں کا آغاز، منصوبہ بندی، عمل درآمد اور ان کی نگرانی کرنا ہے۔
جے ڈبلیو جی میں چین کے ساتھ شمولیت کا مقصد پاکستان میں لیبر کی پیداواری صلاحیت اور صنعتی مسابقت کو بڑھانے، برآمدات میں اضافہ کرنے اور اس میں تنوع کو برقرار رکھنے کے لیے ہے۔
2018 میں منعقدہ سی پیک کی جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی کے آٹھویں اجلاس کے دوران دونوں فریقین نے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے جو فریقین کے درمیان صنعتی تعاون کے حوالے سے مستقبل کی مصروفیات کی وجہ بنا۔
سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جس کا مرکز اسپیشل اکانومک زونز (ایس ای زیڈ) کی ترقی اور صنعت کاری ہے، اس صورتحال میں ایک جامع فریم ورک معاہدے کی ضرورت ناگزیر ہوگئی تھی۔
توانائی اور انفرااسٹرکچر کے حوالے سے سی پیک کے ارلی ہارویسٹ منصوبوں کے لیے بھی اسی طرح کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) کی مسلسل کوششوں سے دونوں فریقین نے موجودہ میمورینڈم (ایم او یو) کو 2020 کے ایک فریم ورک ایگریمنٹ میں شامل کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔
اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور وزیر اعظم کی منظوری کے بعد بی او آئی نے نومبر 2020 میں این ڈی آر سی کے ساتھ اس فریم ورک کا ڈرافٹ شیئر کیا جسے سی پیک کے دوسری فیز کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا۔
فریم ورک معاہدے پر دستخط کی تقریب وزیر اعظم کے دورے کا ایک اہم نتیجہ ہے اور چین کی جانب سے اس کا ٹاپ ایجنڈا ہونا سی پیک میں ان کی دلچسپی کا ثبوت ہے۔
کورونا کے باوجود سی پیک منصوبوں پرکام بتدریج آگے بڑھا، وزیر اعظم
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاک ۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ دونوں ممالک کے عوام کو ٹھوس فوائد پہنچا رہا ہے۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے چین کے قومی ترقی اور اصلاحاتی کمیشن کے چیئرمین ہی لائفنگ سے ورچوئل اجلاس کے دوران بات چیت کی۔
اجلاس میں سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل کے اقدامات کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاک ۔ چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ مضبوط اور لازوال ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے باوجود سی پیک کے تمام منصوبوں پر کام بتدریج آگے بڑھا۔
انہوں نے اس سلسلے میں چین کے قومی ترقی اور اصلاحاتی کمیشن اور دونوں اطراف کے متعلقہ حکام کی کوششوں کو سراہا۔
وزیراعظم نے سی پیک کے ارلی ہارویسٹ منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں نے پاکستان کے معاشی منظر نامے کو تبدیل کردیا ہے اور پائیدار اقتصادی ترقی کی مضبوط بنیاد رکھی ہے۔
انہوں نے گوادر کو علاقائی تجارت اور صنعت کا مرکز بنانے کی کوششیں جاری رکھنے اور ایم ایل ون اور توانائی کے دیگر اہم منصوبوں پر جاری کام کو ترجیح دینے کا عزم ظاہر کیا۔
اس موقع پر چینی کمیشن کے چیئرمین نے کہا کہ چین گزشتہ 7 سالوں میں پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ کاری اور تجارتی پارٹنر بن گیا ہے اور دونوں فریقین مستقبل میں بھی مجموعی اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔
Prime Minister @ImranKhanPTI held a virtual meeting with Mr. He Lifeng, Chairman of China’s National Development and Reform Commission and Vice Chairman of the Chinese People’s Political Consultative Conference in Beijing today. pic.twitter.com/se9i4ShpCL
— PTI (@PTIofficial) February 4, 2022
