کراچی (رپورٹ :قاضی جاوید) 9/11 کے بعد مغرب میں اسلام کو مسئلہ تصور کیا جارہا ہے‘ برطانیہ اور فرانس میں3 دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد مسلمان نکلے‘مذہب کے نام پر شدت پسندی سے متعلق واضح موقف نہ اپنانے سے امت مسلمہ کا بڑا نقصان ہوا ہے‘ مغربی سیاستدانوں نے غیرذمے داری کا مظاہرہ کیا ‘ ٹرمپ،بائیڈن پالیسی میں فرق نہیں‘برطانیہ میں مسلمانوں کیخلاف تعصب عام ہو چکا۔ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد حسین سید، پی پی پی کی سینیٹر شیری رحمن اورجماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے جسارت کے اس سوال کے جواب میں کیا کہ ’’مغربی دنیا میں اسلامو فوبیا پھیلنے کے اسباب کیا ہیں؟‘‘ مشاہد حسین سید نے کہا کہ حالیہ واقعات نے دنیا کے مسلمانوں میں اب یہ احساس تازہ کر دیا ہے کہ اسلاموفوبیا میں اضافہ ہو چکا ہے کہ یہ ایک متعصب و نسل پرست اقلیت کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سماج میں اب ایک عام اور قابل قبول حقیقت ہے‘ برطانیہ اور فرانس میں3 دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد سب مسلمان نکلے‘البتہ شاید مسلمان ہونے سے زیادہ یہ نوجوان تھے جن کو اپنے غصے اور مایوسی کے لیے ایک ہدف چاہیے تھا اور جنہوں نے مذہب کے نام پرلوگوں کو قتل کیا‘اب بالآخر بیشتر مسلمانوں اور مذہبی رہنماؤں نے ان جہادیوں کے بارے میں واضح موقف لینا شروع کر دیا ہے لیکن شاید دیر بہت ہوگئی ہے‘ ہم میں سے زیادہ تر لوگ سالوں تک یہ سوچتے آئے ہیں کہ شاید جہادی کچھ صحیح کام کر رہے ہیں کیونکہ مغرب اور خاص طور پر امریکا نے مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کی ہے‘ افغانستان اور عراق پر حملے کیے ہیں‘ مسلمانوں کو ہلاک کیا اور ان کے ملک تباہ کیے لیکن مذہب کے نام پر ہونے والی اس شدت پسندی کے بارے میں واضح موقف نہ لے کر ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا ہے کیونکہ قاتلوں کی ہم نے صحیح طریقے سے مذمت نہیں کی۔ اس کی وجہ سے مغربی دنیا میں اسلامو فوبیا پھیلا تو کچھ مسلمانوں نے خود ہی ابہام رکھا، اور کچھ مغرب کے سیاستدانوں نے انتہائی غیر ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے اور اس غیر ذمے داری کے نتیجے میں اسلاموفوبیا مغربی ممالک میں اب کُھل کر سامنے آیا ہے۔ شیری رحمن نے کہا کہ11ستمبر کے حملوں کو15 سال ہو گئے ہیں لیکن صحیح معنوں میں مغربی معاشرے میں اسلامو فوبیا اب بھی عروج پر ہے‘ پچھلے2 سال کے سیاسی واقعات نے اس میں بڑا کردار ادا کیا ہے‘ امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسلام مخالف باتیں اور اقدامات کر تے رہے اور اب امریکی صدر جیو بائیڈن کی پالیسی میں بھی بہت کم تبدیلی نظر آرہی ہے لیکن برطانیہ کی سیاست میں یہ صورتحال بتدریج کئی سالوں سے بگاڑی جا رہی ہے‘ اس میں 2 سیاسی اموراہم ہیں‘ یورپ میں اب بار بار مسلمان امیدوار کا تعلق اسلامی شدت پسندوں سے جوڑا جاتا ہے‘ ان حالات کی ذمے دار وہاں کے سیاستدان اور حکمراں جماعت کے ارکان ہیں‘ برطانیہ میں انتہا پسند جماعتیں، جن کو کم ہی منتخب کیا جاتا ہے، سالوں سے ایسی باتیں کرتی رہی ہیں۔ مشتاق احمد خان نے کہا کہ11 ستمبر کے بعد یہ سوچ بڑھتی جا رہی ہے کہ مسلمان مغربی معاشرے کے لیے ایک مسئلہ ہیں اور ان کی سوچ اور اسلام مغربی معاشرے کے اقدار سے متضاد ہے‘ لندن میں فِنزبری پارک مسجد کے قریب حملے میں عینی شاہدوں نے بتایا کہ حملہ آور نے مسلمانوں سے نفرت کا اظہار کیا اور گاڑی لوگوں پر چڑھا دی۔ منافرت پر مبنی جرائم کی معلومات جمع کرنے والی تنظیم ‘ٹیل ماما’ کے مطابق ریفرنڈم کے بعد منافرت پر مبنی واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق کئی برسوں کے بعد پھر ‘پاکی’ پاکستان کو بطور تضحیک استعمال کیا گیا اور حجاب پہنے والی خواتین کو بھی مختلف واقعات میں نشانہ بنایا گیا۔ اس سے پہلے ویسٹ منسٹر، مانچسٹر ارینا اور لندن برج کے قریب ہونے والے حملوں کے بعد لوگوں نے کھلے عام مسلمانوں کو قصوروار ٹھہرانا شروع کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق مانچسٹر حملے کے بعد مسلمانوں کے خلاف منافرت پر مبنی حملوں میں5 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 2011 ء میں برطانوی حکمراں جماعت کنزروویٹیو پارٹی کی چیئرپرسن اور کابینہ کی پہلی مسلمان خاتون سعیدہ وارثی نے یہ کہہ کر تہلکہ مچا دیا تھا کہ’برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف تعصب سماج میں کافی حد تک قابلِ قبول بن چکا ہے اور یہ رویہ ‘ڈنر ٹیبل ٹیسٹ پاس کر چکا ہے’۔ 2014ء میں سعیدہ وارثی کابینہ سے مستعفی ہوگئی تھیں اور اس سال انہوں نے ‘مسلم بریٹن، دا اینیمی وِد اِن؟’ ( برطانوی مسلمان، اندر کے دشمن؟) کے عنوان سے ایک کتاب شائع کی جس میں اپنا تجربہ ظاہر کیا اور برطانوی اور مسلمان ہونے پر تبصرہ کیا ہے۔ تو اب اس بات کو واضح کرنے کی بڑی ذمے داری نہ صرف سیاستدانوں پر ہے بلکہ تمام شہریوں پر بھی ہے۔ اس کو اسلامو فوبیا کے بجائے ایکسٹریمسٹ فوبیا یا منافرت فوبیا کہنا زیادہ بہتر ہوگا اور اس میں مختلف معاشروں کے مسلمانوں کی سوچ میں کچھ تبدیلی بھی شاید ضروری ہو۔

