حجاب تنازع پر صدائے تکبیر بلند کرنے والی کرناٹک کی حجاب گرل مسکان کی حمایت میں بھارتی اداکارو اداکارائیں بھی سامنے آگئیں.
بھارتی سیاست دان اور اداکار کمل ہاسن نے ہندو انتہا پسندی کے خلاف روشن خیال فورس کے قیام کا مطالبہ کردیا جبکہ بھارت کی سینئر اداکارہ شبانہ اعظمی نے کہا کہ انتہا پسندوں کو انہی کی زبان میں جواب دیا جائے۔
بھارتی اداکار اور سیاست دان کمل ہاسن نے ریاست کرناٹک میں باحجاب طالبہ کو ہراساں کرنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ’روشن خیال فورس‘ کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست تامل ناڈو میں ایسے کسی بھی کام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کمل ہاسن نے کہا کہ ایک معصوم طالبہ کو ہراساں کرنا کسی صورت قبول نہیں ہے، ریاست تامل ناڈو میں روشن خیال فورس نہ صرف ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنائے گی بلکہ ہم لوگوں کی سوچ بھی بھی تبدیل کریں گے۔
دوسری جانب ریاست کرناٹک کے کالج میں مسکان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر بھارتی اداکاراؤں نے بھی خاموشی توڑتے ہوئے انتہا پسند ہندوؤں کے عمل کی شدید مذمت کی ہے۔
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ پوجا بھٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مسکان کے حق میں بیان دیتے اس واقعے کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’ہمیشہ کی طرح مردوں کے ایک گروہ نے عورت کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی، شالوں کو ہتھیار بنا کر خود کو مظلوم اور ظلم کو چھپایا نہیں جاسکتا‘۔
بھارتی ڈراموں کے مشہور اداکار اور بگ باس کے سابق کھلاڑی علی گونی نے ہندو انتہا پسندوں کے سامنے ڈٹ جانے والی مسلم باحجاب طالبہ کو ’’شیرنی‘‘ قرار دے دیا۔
طالبہ کی اس بہادری نے دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی تھی اور سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے بہادر طالبہ کی جرات کی تعریف کرتے ہوئے جنونی ہندوؤں کے اس طرز عمل کے خلاف آواز اٹھائی۔
بھارتی ڈراموں کے مشہور اداکار علی گونی جو بگ باس کا حصہ بھی رہ چکے ہیں، انہوں نے بھی مسلم طالبہ کی انتہاپسند ہندوؤں کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کرنے کی ویڈیو اپنی انسٹا اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے طالبہ کو ’’شیرنی‘‘ قرار دیا۔
اداکارہ سوریا نے بھی واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ، وہیں دوسری طرف اداکارہ سوارہ بھاسکر نے بھی طالبہ کی ویڈیو کو ٹوئٹ کراتے ہوئے بھارت کی صارتحال کو شرمناک قرار دے دیا
بھارت کی سینئر اداکارہ شبانہ اعظمی نے مسکان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر رد عمل کا اظہار کیا اور بھارتی جھنڈے کا حجاب بنانے کی تجویز دے دی۔
شبانہ اعظمی کا کہنا تھا کہ کیوں نا انتہا پسندوں کو انہی کی زبان میں جواب دیا جائے۔
واضح رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں باحجاب مسلم طالبہ مسکان کو کالج میں داخل ہونے کے بعد انتہا پسندوں نے ہراساں کیا تاکہ وہ خوفزدہ ہو جائے مگر طالبہ نے ڈٹ کر انتہا پسندوں کا مقابلہ کیا اور جواب میں اللہ اکبر کے نعرے بلند کیے۔

