English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سندھ اسمبلی نے صوبے میں طلبہ یونین کی بحالی کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ طلبہ یونین بل پر اسمبلی میں اظہار خیال کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی نے صوبے بھرمیں طلبہ یونین کی بحالی کا تاریخی بل متفقہ طور پر منظور کرلیا، بل کی منظوری کے موقع پر ایوان میں زبردست نعرے بازی کی گئی۔اس بل کی منظوری کے بعد 38 سال بعد طلبہ تنظیموں کی بحالی کا اعزاز صوبہ سندھ کوحاصل ہوگیا ہے کہ وہ طلبہ یونین کو بحال کرنے والاپہلا صوبہ بن گیا ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس بل کی منظوری کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے تعلیمی اداروں میں مثبت ماحول پروان چڑھے گا، طلبہ یونینز نفرت اور اشتعال انگیز سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گی،اس تاریخ ساز فیصلے کا کریڈٹ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو جاتا ہے جنہوں نے اس حوالے سے طلبہ کی رہنمائی بھی کی تھی، جبکہ اجلاس میں بلدیاتی قانون میں ترمیم کے لئے اپوزیشن اور سندھ حکومت کے درمیان خصوصی کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوگیا۔ کمیٹی جماعت اسلامی اور پی ایس پی کی تجاویز سمیت سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں مسودہ کی تیاری کا کام کرے گی۔اسپیکر سندھ اسمبلی نے حکومت اور اپوزیشن سے کمیٹی کے لئے اراکین کے نام طلب کرلئے۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس میںسندھ اسٹوڈنٹس یونین بل 2019ء ایوان میں پیش کیا گیا جس کی حمایت ، اپوزیشن کے تمام پارلیمانی گروپوں کی جانب سے کی گئی جن میں پی ٹی آئی، ایم کیوایم، جی ڈی اے بھی شامل تھے۔ایوان کو بتایا گیا کہ طلبہ یونین کی بحالی کے مسودہ قانون میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی ہے۔طلبہ یونینز پر 1984میں پابندی لگائی گئی تھی اور اب سندھ اسمبلی ایک قانون کے ذریعے اسے ختم کررہی ہے اس طرح سندھ طلبہ یونین کو بحال کرنیوالا پہلا صوبہ بن گیا ہے۔ ایوان نے جب اس بل کی متفقہ طور پر منظوری دی تو فلک شگاف نعروں کے ذریعے اس کا خیرمقدم کیا گیا۔ارکان نے طلبہ یونینوں کے حق میں نعرے لگائے۔ایوان کو بتایا گیا کہ جامعات دو ماہ میں طلبہ یونین بحالی کے لئے ضروری قواعد مرتب کریں گی۔ اس موقع پروزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج تاریخی دن ہے ،طلبہ یونینز پر ایک ڈکٹیٹر کے دورمیں پابندی لگی تھی جسے آج سندھ اسمبلی نے ختم کردیا ہے۔منظورکئے جانے والے بل کے تحت۔تعلیمی اداروں میں ہڑتال کلاسز کا بائیکاٹ کرنا اسلحہ لانا جرم ہوگا ہر سال طلبہ یونین کے الیکشن ہونگے۔ اس بل کے مطابق منتخب نمائندوں کو جامعات کے سینیٹ و سنڈیکیٹ میں نمائندگی دی جائیگی، تکریم اساتذہ طلبہ کے اعلیٰ سماجی تعلیمی معیار کو یقینی بناناطلبہ یونین کی ذمہ داری ہوگی۔سندھ کی تمام نجی و سرکاری جامعات،کالجز اور فنی تعلیم کیاداروں میں طلبہ یونینز کا قیام عمل میں لایاجائے گا۔ سندھ اسٹوڈنٹس یونین ایکٹ کے تحت قانون کے نافذ العمل ہونے کے دوماہ کے اندر جامعات طلبہ یونینز کے لئے قواعد مرتب کرنے کی پابند ہونگی ہر تعلیمی ادارے میں طلبہ یونین کیہر سال الیکشن ہونگے اور سات سے گیارہ طلبہ کی یونین کا انتخاب کیاجائے گا۔طلبہ یونین کے منتخب نمائندوں کو درسگاہ کی انسداد ہراسگی کمیٹی میں طلبہ یونین کا ایک نمائندہ شامل ہوگا۔طلبہ یونین ایکٹ کے تحت تعلیمی ادارے میں خلاف آئین سرگرمی،نفرت و اشتعال انگیز اقدامات اور اسلحہ لانے پر پابندی ہوگی طلبہ یونین ایکٹ کے تحت تدریسی تعلیمی و انتظامی امور میں رخنہ ڈالناجرم ہوگا تفریق ناانصافی کو روکنے کے لئے طلبہ یونینز کردار ادا کرییں گی۔سندھ طلبہ یونین ایکٹ کی شق کے تحت تکریم اساتذہ سماجی وجمہوری اقدار کا فروغ صحت مند بامعنی بامقصد مکالمے کا فروغ طلبہ یونین نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری ہوگی ایکٹ کے تحت کلاسز کا بائیکاٹ تعلیمی ادارے میں ہڑتال اور درسگاہ کے قواعد کی خلاف ورزی پر کاروائی ہوگی۔سندھ طلبہ یونین ایکٹ کے تحت یونینز طلبہ حقوق و مفاد کے تحفظ اور طلبہ کی سماجی و تعلیمی بہبود کے لئے کام کریں گی۔ قبال ازیں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید نے نقطہ اعتراض پر کہاکہ جن طلبہ تنظیموں سے مشاورت کی گئی ان میں اسلامی جمیعت طلبا بھی شامل ہے، لیکن فہرست میں اس کا نام شامل نہیں، اسلامی جمعیت طلبہ ملک کی ایک بڑی طلبہ تنظیم ہے لہٰذا اس حوالے سے فہرست میں تصحیح کرلی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیاری کے حالات روز بہ روز خراب ہوتے جارہے ہیں۔گرینڈ مارا گیا تین بچے زخمی ہوئے۔ دو ماہ قبل نہتے لوگوں پر فائرنگ کی گئی۔وہاں کے ایس ایچ او اس کی سر پرستی کررہے ہیں۔ یہاں پر یقین دہانی کرائی گئی۔میرے خلاف ایف آئی آر کٹی ہے‘ جو امن و امان مسئلہ ہے‘ یاک طرف انتقامی کارروائی ہورہی ہے۔دوسری طرف گولہ باری وہاں شروع ہوگئی۔ لیاری کو دوبارہ کس آگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ہم لیاری میں دوبارہ یہ برداشت نہیں کریں گے۔ جمعہ کو سندھ اسمبلی کا ایک گھنٹہ 20 منٹ تاخیر سے شام 4 بجکر 20 منٹ پر اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی صدارت میں شروع ہوا۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت شریف کے بعد وقفہ دعا میں وفاقی وزیر علی زیدی کے والد ، بلوچستان میں افواج پاکستان کے شہدا ،پی ایس پی کے کارکن سلمان ، سیئر صحافی ثاقب صغیر کی بیٹی،سانحہ شیر شاہ میں جاں بحق ہونے والوں اور دیگر مرحومومین کے لیے دعا ئے مغفرت کی گئی۔نوکوٹ میں دو بچیوں کیلیے دعا ہوئی ۔لیاری میں گینگ وار اور بھتہ کلچر کے خاتمے اور گرینڈ حملے میں زخمی افراد کی صحت یابی دعا، جبکہ سنیل کمارا اور رمیش کمار کے قتل پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار اور ملزمان کو گرفتاری مطالبہ کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے