
کراچی (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سندھ محمد حسین محنتی نے سندھ میں طلبہ یونینز کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ 38 سال کے بعد سندھ میں طلبہ یونینز کی بحالی کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ جمہوری و اسلامی روایات کے مطابق طلبہ تنظیموں کو کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ طلبہ یونین کی بحالی سے نہ صرف تشدد و غیرجمہوری حرکتوں کی روک تھام ہوگی بلکہ اپنی مرضی کی قیادت کو منتخب کرنے کا حق اورملک و قوم کو اہل،نڈرو بہادر قیادت ملے گی۔ قبا آڈیٹوریم میں نظم صوبہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد حسین محنتی نے کہا کہ آج کراچی تا کشمور پورا صوبہ لاقانونیت اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے، چوری ڈاکا زنی،اغوا برائے تاوان کے واقعات اور سندھ کے تعلیمی اداروں میں بچیوں کے ساتھ زیادتی وہراسانی سمیت درندگی کے واقعات سب کچھ ٹھیک ہے کا راگ الاپنے والے حکمرانوں کے لیے لمحہ فکر ہے۔کسی بھی شہری کی جان محفوظ ہے نہ ہی مال، عام آدمی بے یارومددگار اور انصاف کے لیے دھکے کھاتا پھرتا ہے کوئی ان کی داد رسی کرنے والا نہیں ہے اس لیے جماعت اسلامی ملک میں نظام کی تبدیلی کے لیے جدوجہد کررہی ہے،عوام نے جمہوری آمریتی تمام نظاموں کو آزمالیا ہے اب اس ملک وقوم کی تقدیر صرف اسلامی نظام ہی بدل سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محض چہروں سے نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی سے ملک وقوم کی تقدیر بدل سکتی ہے، مہنگائی وسودی نظام معیشت نے عوام کی زندگی اجیرن بناکر رکھ دی ہے، جماعت اسلامی اقامت دین کی عالمگیر تحریک ہے جو کرپشن، مہنگائی، سودی نظام کے خاتمے اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ صوبائی جنرل سیکرٹری کاشف سعید شیخ نے لاڑکانہ سے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت اور فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ پیش کیا، اجلاس میں سندھ کی سیاسی صورتحال سمیت دیگر دعوتی وتنظیمی امور پر غور کیا گیا۔
