فیصل آباد (صباح نیوز) مسلم لیگ ن پنجاب کے صدراورسابق صوبائی وزیرقانون راناثنااللہ خاں نے کہاہے کہ حکومت کے خاتمہ کافیصلہ چنددنوں تک واضح ہوجائے گا۔ عددی برتری مکمل ہے تاہم ہوم ورک جاری ہے۔ عدم اعتماد کے لیے اگرچہ 10 ارکان کی ضرورت ہے مگرحکومت میں شامل درجنوں ارکان اپنی ہی حکو مت سے نجات اورعوام میں جانے کے لیے اپنامستقبل روشن کرناچاہتے ہیں۔اُن کاکہنا تھا کہ ہم کسی فون کال کے منتظرنہیں قانونی اور جمہوری طریقے سے حکومت کوگھربھجواناچاہتے ہیں تاہم حکومتی اتحادیوں کو بھی ملک کے موجودہ حالات میں ذاتی مفادات کی بجائے عوامی مفادات کو ترجیح دیناہوگا ۔قائد حزب اختلاف میاں شہبازشریف کی چوہدری برادران سے ملاقات کے مثبت نتائج کی توقع ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن کے قائدمیاں نوازشریف نے باہربیٹھ کرحکومت کاعلاج بھی کرلیاہے۔عمران خان کااٹیچی کیس تیارہے اُن کسی وقت بھی بنی گالہ کی طرف رخصتی ہونے والی ہے۔اُمیدہے پی ڈی ایم کی قیادت محدودمدت میں عام انتخابات کاایس اوپی تیارکرے گی جس کے بعد عام انتخابات ہوں گے اورمسلم لیگ ن فریش مینڈیٹ کے ساتھ اقتدارمیں آئے گی۔ اُنہوں نے کہاکہ عمران خان کو اپنی رخصتی کاعلم ہے اس لیے وہ میاں نواز شریف، مریم نوازاور میاں شہبازشریف سے خوفزدہ ہیں اور بعض اپوزیشن رہنمائوں کی گرفتاری کے خواہشمند ہیں جوکسی صورت بھی پوری نہیں ہوگی۔ اب وقت تبدیل ہوگیا ہے اب اپوزیشن نہیں عمران خان ٹولہ جیل کی سلاخوں میں ہوگا۔رانا ثنا اللہ نے کہاکہ ہم حکومت کے بجائے صاف شفاف الیکشن کوبہترسمجھتے ہیں۔ ان ہائوس تبدیلی میں کیاکرناہے اس کافیصلہ میاں نواز شریف اوراپوزیشن کی اتفاق رائے سے ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہاکہ جوحکومتی ارکان رابطے میں ہیں اُن کے نام اخلاقی طورپر ظاہرنہیں کئے جاسکتے۔عام انتخابات میں ٹکٹ کی شرائط اہم مسئلہ ہے تاہم اس کا فیصلہ بھی میاں نوازشریف کریں گے۔اُنہوں نے کہاکہ پونے 4 سال میں تعمیروترقی توکیاعوام کوبنیادی سہولتوں سے بھی محروم رکھاگیاہے،مہنگائی سے جرائم اور خودکشیوں کی شرح میں اضافہ ہوچکاہے۔
