نئی دہلی(صباح نیوز)بھارت میں حجاب پر پابندی کے خلافدوٹوک مؤقف اختیار کرنے کی پاداش میں متعدد مسلم رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ان رہنماؤں کا تعلق اسد الدین اویسی کی جماعت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سے ہے۔پولیس نے الزام عاید کیا ہے کہ گرفتار ہونے والے عہدیداران کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کی پابندی کے خلاف گجرات کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کی تیاری کر رہے تھے۔علاوہ ازیں حیدرآباد سے مسلم سیاست دان اورلوک سبھا کے رکن اسد الدین اویسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وڈیو پیغام میں کہا کہ میں زندہ رہوں یا نہ رہوں،میری بات یاد رکھنا کہ ایک نہ ایک دن باحجاب لڑکی ہی بھارت کی وزیر اعظم بنے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی بیٹیوں کو اگر وہ یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ ابا امی میں حجاب پہنوں گی، تو ابا امی پہلے بولیں گے بیٹا پہن، تجھے کون روکتا ہے، ہم دیکھیں گے۔اسد الدین اویسی نے یہ بھی کہا کہ حجاب پہنیں گے، نقاب پہنیں گے، کالج بھی جائیں گے، ساتھ ہی کلکٹر بھی بنیں گے، ڈاکٹر بھی بنیں گے اور بزنس مین بھی بنیں گے۔واضح رہے کہ بھارتی ریاست کرناٹک میں کالج کی ایک باحجاب طلبہ نے ہندو انتہا پسند طلبا کے جتھوں کے سامنے نعرہ تکبیر بلند کیا تھا جس پر دنیا بھر میں مسکان کو سراہا جا رہا ہے۔
