تحریر: آفتاب مہمند
گزشتہ دنوں جیو نیوز کے پروگرام” آج شاہ زیب خان زادہ کیساتھ” میں گفتگو کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار خالد لودھی نے چند اہم نکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کون سے وہ ممالک ہیں جن میں دوستی کا دعوی کرنیوالا ایک ملک بھی ہو سکتا ہے جو بلوچستان میں حالات خراب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور پاک چائنا راہداری منصوبے کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے۔
غور کیا جائے تو بلوچستان کے حالات کا یعنی یہاں کی لڑائی کو اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو “اندرون اور بیرون تنظیمیں یا قوتیں جو کہ کئی سالوں سے تسلسل کیساتھ یہاں خلفشار پیدا کرنے میں مصروف ہیں یعنی مقامی سے بین الاقوامی کی لڑائی تک تو خالد لودھی کے جیو نیوز کے پروگرام میں رکھے گئے سوالات کی سمجھ آنی چاہیئے۔”
بات کی جائے بلوچستان کی تو بلوچستان کو صوبے کا درجہ 1970ء میں ملا۔رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ یعنی 347190 مربع کلو میٹر پر واقع ہے جو ملک کے کل رقبے کا 43.6 فیصد حصہ بنتاہے۔یہاں کی آبادی 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 65 لاکھ 65 ہزار 885 نفوس پر مشتمل تھی۔اس وقت صوبے کی آبادی ایک محتاط اندازے کے مطابق 90 لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان ہے۔یہاں کی لڑائی کوئی آج کا نہیں تاریخ دیکھی جائے تو آزادی پاکستان کے کچھ عرصہ بعد ہی خان آف قلات کے بھائی آغا عبدالکریم اپنے سینکڑوں ساتھیوں کے ساتھ جھالاوان کی پہاڑیوں پر چڑھ گئے تھے۔اسی طرح 1958–59، 1962–63 میں ایسے واقعات سامنے آئے
لیکن ملک کے خلاف مسلح بغاوت کا آغاز 1970ء کی دہائی کے اوائل میں وجود میں آنیوالی بلوچستان لبریشن آرمی کی صورت میں سامنے آیا،
یہ وہ زمانہ تھا جب ذوالفقار علی بھٹو ملک کے حکمران تھے۔
جنرل ضیاء الحق کے دور اقتدار میں اس وقت بلوچ قوم پرست رہنماﺅں سے مذاکرات کے نتیجے میں مسلح بغاوت کے خاتمے کے بعد مذکورہ تنظیم بھی پس منظر میں چلی گئی تھی۔
بلوچستان میں جہاں بیرونی قوتوں کی مداخلت کا تعلق ہے تو اس حوالے سے تاریخ بتاتی ہے کہ
یہاں غیر ملکی مداخلت کا آغاز 70ء کی دہائی میں ہی ہوا تھا۔بعض بلوچ قوم پرست افغانستان میں کھلے عام تربیتی کیمپ چلاتےرہے اور یہ سلسلہ 1980ء تک جاری رہا۔
وقتا فوقتا یہاں کی لڑائی میں کبھی کمی،کبھی شدت آتی رہی۔اسی طرح وقت گزرنےکیساتھ ساتھ بلوچ مزاحمتکارتنظیموں کی تعدادمیں بھی اضافہ ہوتارہا۔
تاریخ کا ایک اور موڑ اس وقت آیا جب سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس نواز مری کے قتل کے الزام میں قوم پرست رہنماء نواب خیر بخش مری کی گرفتاری کے بعد سن 2000ء سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سرکاری تنصیبات اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
اسکے چند سال بعد وہاں کی شورش میں ایک بار پھر بے تحاشا اضافہ دیکھنے کو ملا جب سابق وزیر اعلی بلوچستان و بلوچ رہنماء نواب اکبر بگٹی کی 26 اگست 2006ء کو موت کا واقعہ پیش آیا۔سابق صدر پرویز مشرف اس واقعہ سے متعلق آج تک اپنا ایک ہی موقف رکھتےہیں جبکہ مرحوم اکبر بگٹی کے اہل خانہ اپنے موقف پر قائم ہیں۔دیکھا جائے تو بلوچستان میں ہمیشہ سکیورٹی اداروں اور املاک کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم ایسے کئی واقعات بھی دیکھنے کو ملے ہیں جہاں بےتحاشا
عوامی نقصان بھی ہوتے آئے ہیں۔
جہاں تک ان بلوچ مزاحمت کار تنظیموں
بی ایل اے، بی ایل ایف، بی آر اے، لشکر بلوچستان، بی آر جی، یو بی اے، مجید بریگیڈ وغیرہ کا تعلق ہے تو انہوں نے بلوچ علاقوں
تربت، آواران، نوشکی، ڈیرہ بگٹی، پسنی، قلات، سبی، پنجگور، ڈیرہ مراد جمالی، ڈیرہ اللہ یار، خضدار، حب چوکی، کیچ، گوادر، خاران، کاہان، نصیر آباد، دالبندین اور دیگر علاقوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ سینئر اینکر پرسن نجم سیٹھی سمیت کئی نامور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مزاحمت کار تنظیمیں روز اول ہی سے بقول ان کے آزادی کیلئے لڑتی آ رہی ہیں حالانکہ ان تنظیموں کو بھارتی خفیہ ایجنسی را جیسی ملک دشمن قوتوں کی حمایت و معاونت حاصل ہے چونکہ پوری تاریخ سے قوم بخوبی واقف ہے لہذا تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔
2008ء میں جب وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی کو حکومت ملی تو اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کئی بار میڈیا میں آ کر ناراض بلوچ رہنماؤں کیساتھ مذاکرات کا اعلان کیا۔ اسی طرح سابق وزیر اعلی بلوچستان عبدالمالک بلوچ کو بھی مذاکرات کا ٹاسک سونپنے کی خبریں سامنے آئیں۔
وقت گزرتا رہا تاریخ نے پلٹا کھانا تھا اور تاریخ پلٹا کھایا جب پاکستان میں ’’سی پیک‘‘ یعنی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہوا گو کہ اس تاریخی پراجیکٹ کیلئے مذاکرات، معاہدوں، جامع شکل دینے کی منصوبہ بندی ماضی کے دور حکومتوں کا حصہ ہے تاہم 2013ء کےبعد اسے عملی جامہ پہنا کر پاکستان میں جہاں ترقی کی باتیں شروع ہوئیں تو وہیں اس بحث نے جنم لیا کہ بعض عالمی قوتیں اس منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کریں گی جس کے لئے صرف بلوچستان میں نہیں بلکہ گلگت اور اسی طرح پوری شمالی بیلٹ میں حالات خراب کرنے کی کوشش کی جائیگی۔اب یہاں بعض بین الاقوامی فورسز ایک دوسرے کیخلاف کھلم کھلا، سرد جنگ یا گوریلا وار کے طرز کی لڑائی کا لڑائی کا آغازکیا جائیگا اور جنگجو تنظیموں کا بنیادی مقصد ہی اس منصوبے کو ناکام بناناہے۔
پاک چین اقتصادی راہداری ایک بہت بڑا تجارتی منصوبہ ہے جس کا مقصد جنوب مغربی پاکستان سے چین کے شمال مغربی خود مختار علاقے سنکیانگ تک گوادر بندرگاہ، ریلوے اور موٹر وے کے ذریعے تیل اور گیس کی کم وقت میں ترسیل کرنا ہے۔ اقتصادی راہداری پاک چین تعلقات میں مرکزی اہمیت کی حامل تصور کی جاتی ہے۔گوادر سے کاشغر تک کا فاصلہ تقریباً 2442 کلو میٹر طویل ہے۔ یہ منصوبہ مکمل ہونے میں کئی سال لگیں گے اس پر 46 بلین ڈالر لاگت کا اندازہ لگایا گيا ہے۔ راہداری چین کی اکیسویں صدی میں شاہراہ ریشم میں توسیع ہے۔ یہ چین کے زیادہ بڑے منصوبے ’’بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹیو‘‘ کا حصہ ہے جو دنیا کے 60 ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔
منصوبے کا مرکزی کردار چونکہ 60 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی والا شہر گوادر ہےجو پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب میں اور دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی راستے پر واقع صوبہ بلوچستان کا شہر ہے جو اپنے شاندار محل وقوع اور زیر تعمیر جدید ترین بندرگاہ کے باعث عالمی سطح پر معروف ہے۔ آنے والے وقت میں نہ صرف پاکستان بلکہ چین، افغانستان اور وسط ایشیا کے ممالک کی بحری تجارت کا زیادہ تر دارومدار بھی اسی بندر گاہ پر ہو گا۔
یہی وجہ ہے کہ دنیا کی کئی طاقتیں گوادر سے خوفزدہ ہو کر یہاں کبھی ترقی نہیں دیکھنا چاہتیں۔
گوادر کی تاریخی جغرافیائی و تجارتی اہمیت کوئی آج کی نہیں، تاریخ کے حوالے سے دیکھا جائے تو 325 قبل مسیح میں سکندر اعظم جب برصغیر سے واپس یونان جا رہا تھا تو اس نے یہ علاقہ اتفاقاً دریافت کیا تھا۔ اہم سمندری راستے پر واقع ہونے کی وجہ سے سکندر اعظم نے اس علاقے کو فتح کر کے اپنے ایک جنرل Seleukos Nikator کو یہاں کا حکمران بنا دیا جو 303 قبل مسیح تک حکومت کرتا رہا۔ اسی طرح 202 قبل مسیح میں یہاں کی حکمرانی ایران کے بادشاہوں کے پاس چلی گئی۔711 عیسوی میں مسلمان جنرل محمد بن قاسم نے یہ علاقہ فتح کر لیا۔ہندوستان کے مغل بادشاہوں کے زمانے میں یہ علاقہ مغلیہ سلطنت کا حصہ رہا۔ 16 ویں صدی میں پرتگیزیوں نے مکران کے متعدد علاقوں جن میں گوادر بھی شامل تھا پر قبضہ کر لیا۔
1581ء میں پرتگیزیوں نے اس علاقے کے دو اہم تجارتی شہروں پسنی اور گوادر کو جلا ڈالا۔ یہ علاقہ متعدد مقامی حکمرانوں کے درمیان بھی تختہ مشق بنا رہا اور کبھی اس پر بلیدی حکمران رہے تو کبھی رندوں کو حکومت ملی۔کبھی ملک حکمران بن گئے تو کبھی گچکیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ اسی طرح 1740ء تک بلیدی یہاں حکومت کرتے رہے۔ ان کے بعد گچکیوں کی ایک عرصہ تک حکمرانی رہی مگر خاندانی اختلافات کی وجہ سے جب یہ کمزور پڑے تو خان آف قلات میر نصیر خان اول نے کئی مرتبہ ان پر چڑھائی کی جس کے نتیجے میں ان دونوں نے اس علاقے اور یہاں سے ہونیوالی آمدن کو آپس میں تقسیم کر لیا۔
1775ء کے قریب مسقط کے حکمرانوں نے وسط ایشیا کے ممالک سے تجارت کیلئے اس علاقے کو مستعار لے لیا اور گوادر کی بندر گاہ کو عرب علاقوں سے وسط ایشیا کے ممالک کی تجارت کیلئے استعمال کرنے لگے جن میں زیادہ تر ہاتھی دانت اور اس کی مصنوعات، گرم مصالحے، اونی لباس اور افریقی غلاموں کی تجارت ہوتی۔ستمبر 1958ء میں پاکستان نے گوادر کو عمان سے ساڑھے پانچ ارب روپے میں خرید لیا جس کے ساتھ ہی گوادر کے عرب دور کا سورج غروب ہو گیا۔
1955ء میں اس علاقے کو مکران ضلع بنا دیا گیا تھا۔ 1958ء میں مسقط نے 10 ملین ڈالرز کے عوض گوادر اور اس کے گرد و نواح کا علاقہ واپس پاکستان کو دے دیا جس پر پاکستان کی حکومت نے گوادر کو تحصیل کا درجہ دے کر اسے ضلع مکران میں شامل کر دیا۔ اسی طرح 1977ء میں گوادر کو باقاعدہ ضلع کا درجہ دیدیا گیا۔تاریچ یہ بھی بتاتاہے کہ سابق سوویت یونین کا افغانستان پر حملہ گوادر ہی کے لئے تھا جیسا کہ وہ یہاں پہنچنا چاہتے تھے وہ ایک الگ موضوع ہے کہ انکی مخالف قوتوں نے افغانستان ہی میں اسے روک کر ناکامی سے ایسا دوچار کیا کہ وہ خود ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔
پروگرام “آج شاہ زیب خانزادہ میں خالد لودھی نے جو نکات اٹھائے بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔سینئر
اینکر پرسن سلیم صافی نے تو گزشتہ روز اپنے ایک وی لاگ میں صاف بتا دیا کہ پہلے تو ہمسایہ ملک ایران کبھی بھی گوادرپورٹ کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہے گا کیونکہ انکے ہاں بھی ساحلی پٹی چاہ بہار جیسا علاقہ موجود ہے۔کئی ماہرین بعض عرب ممالک کا بھی ذکرکرتےآئےہیں جیساکہ وہاں بھی تو ایک بین الاقوامی تجارتی مارکیٹ موجود ہے۔ یہاں یہ بات غلط نہ ہو گی کہ سنگا پور بھی اس منصوبے کی تکمیل کے باعث اپنا مقام کھو دے گا۔
اب جہاں تک بلوچستان میں عالمی قوتوں کی مداخلت کا تعلق ہے تو اس میں سرفہرست بھارت ہی ہے۔ پاکستان نے اس معاملے کو کئی مرتبہ عالمی سطح پر بھی اٹھایا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار خالد لودھی نے بھارت کے ایک سابق نیشنل ایڈوائزر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کے مطابق بھارت نے بلوچستان اور گلگت بلتستان میں دہشتگردی کیلئے 400 ملین ڈالرز مختص کئے ہیں۔ لودھی صاحب کی بات کہ خود بھارتی وزیر اعظم نے ایک مرتبہ کہا کہ بلوچستان میں وہاں کی کالعدم تنظیموں کو وہ سپورٹ کر رہے ہیں۔
امریکہ کے سابق سیکرٹری دفاع چک ہیگل نے آن دی ریکارڈ خود اعتراف کیا تھا کہ بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے جس پر امریکہ کو بھی تشویش لاحق ہے۔ صرف بلوچ تنظیمیں ہی نہیں بلکہ ماضی میں بلوچستان میں جنداللہ، کالعدم لشکر جھنگوی جیسی تنظیموں کی موجودگی کی خبریں آئی ہیں۔مختلف ذرائع ابلاغ کے مطابق ان تنظیموں کو ہمیشہ بیرونی قوتوں کی معاونت حاصل رہی ہے۔
یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ لڑائیوں کے دوران چاہے وہ دیہاتی سطح کی ہوں، علاقائی سطح کی، قومی سطح کی یا بین الاقوامی طرز کی ہوں جس کو بھی موقع ملتا ہے، سامنے سے ہو یا گوریلا طرز کا تو موقع ملتے ہی وہ وار کرتا ہے۔
جہاں تک سی پیک منصوبے کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ چائنا کے خلاف امریکہ کی کھلم کھلا مخالفت ، بیانات حتی کہ اقدامات لینے سے وہ عملا میدان میں ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چائنا کیخلاف بیانات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ 2017ء میں حکومت سنبھالتے ہی صرف اکیس روز بعد چین سے تجارتی جنگ چھیڑ دی گئی تھی۔ موجودہ صدر جو بائیڈن کا بیان کہ انکا اصل مقابلہ چین سے ہے۔ خود سابق امریکی آرمی چیف نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ چائنا پر حملے کا ارادہ رکھتا تھا اور اس سلسلے میں انہوں نے دو مرتبہ چائنا کے آرمی چیف کو بتایا تھا۔
تجارتی جنگ چھڑنے کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ معاشی، عسکری اور سیاسی لحاظ سے طاقتور ہوتے چین کو امریکا اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتا ہے۔ امریکی حکمران طبقے کا خیال ہے کہ چین کا عروج دنیا میں امریکا کی سپرمیسی ختم کر دے گا۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں جب
اکتوبر 2020ء میں انڈیا، آسٹریلیا، جاپان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے ٹوکیو میں ملاقات کی۔تھی تو تمام بڑی طاقتیں دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کے دنیا پر بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور دنیا کے چین پر انحصار کو کم کرنے کے ارادے سے اکٹھی ہوئی تھیں۔
اسی طرح ماضی میں جی سیون ممالک کے ایک اجلاس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اعلان کیا تھا کہ جی سیون نے حریف چین کے اثر کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک حکمت عملی وضع کر لی ہے جس کے تحت عالمی سطح پر ایسے ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کرنی ہو گی جو ماحولیاتی طور پر مستحکم ہو۔
امریکی حکومت کی جانب سے چین کی 33 کمپنیوں پر پابندی لگانے کے حوالے سے حال ہی میں روس کا ایک مذمتی بیان سامنے آیا ہے۔ اسی طرح چائنیز حکام کے بھی امریکہ کیخلاف کئی جوابی بیانات سامنے آئےہیں۔
ایک حالیہ ریسرچ کے مطابق چین سنہ 2013ء سے 2017ء تک انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار تھا اور اب دوسرا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔
آسٹریلیا کی کل برآمدات کا تقریبا نصف یعنی 48.8 فیصد چین کو جاتا ہے۔ چین اور جاپان کے درمیان سنہ 2019ء میں دو طرفہ تجارت 317 ارب ڈالر تھی جو جاپان کی کل تجارت کا 20 فیصد ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کے باوجود دونوں کی 2019ء میں دو طرفہ تجارت 558 ارب ڈالر تھی، اس میں خدمات کا شعبہ شامل نہیں ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک چین اور امریکہ کے مابین دو طرفہ تجارت 290 ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔
امریکی ریاست ورجینیا کی ولیم اینڈ میری یونیورسٹی کی ایڈ ڈیٹا ریسرچ لیب کے مطابق گزشتہ 18 برسوں کے دوران چین نے 165 ممالک کو 13427 انفراسٹرکچر کے منصوبوں کیلئے 843 ارب ڈالرز کے قرضے دیئے ہیں۔
بی بی سی میں شائع ہونیوالے ایک مضمون کے مطابق چونکہ چین کی بین الاقوامی تجارت کو مزید فروغ دینے کیلئے سی پیک کا روٹ نہایت اہمیت کا حامل ہو گا یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں فعال بعض تنظیموں نے اتحاد کر کے پاکستان میں چین کے مفادات کو نشانہ بنانے کی خاطر ‘براس’ نامی اتحاد قائم کیا ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے گزشتہ روز جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کو حمایت حاصل ہے۔
اسی طرح سابق بلوچستان حکومت کے ترجمان سرفراز بگٹی نے دعوی کیا ہے کہ اب ایک نئی تنظیم وجود میں آ گئی ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلم لیگ نواز کے رہنماء جب یہ بات کرتے ہیں کہ میاں نواز شریف کو تیسری مرتبہ وزارت عظمی سے ہٹانے کی سازش عالمی سطح کی تھی تو اس میں ایک فیکٹر سی پیک منصوبے کا عملی آغاز بھی تصور کیا جا رہا ہے اور دوسرا فیکٹر ترکی کیساتھ نہایت قربت۔ اسی طرح ایک سینئر سیاستدان تو ملکی مفاد میں سی پیک منصوبے کا باقاعدہ پرچار کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں اس سلسلے میں عوامی افتتاح بھی کیا گیا۔۔ مخالف قوتوں کے خطرناک حد تک نشانے پر ہیں۔ ماضی میں بھی ان پر کئی حملے کئے جا چکے ہیں۔ اسی طرح حال ہی میں بلوچستان پولیس نے ان سے متعلق ایک تھریٹ الرٹ بھی جاری کیا تھا۔
خود امریکہ دنیا بھر کیلئے اگست 2013ء میں وجود میں آنیوالی ایک بین الاقوامی جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ یعنی داعش کو ایک خطرہ قرار دے رہا ہے۔اسی طرح اس تنظیم کو اس ریجن خصوصا چین کی تجارتی سرگرمیوں کیلئے بھی ایک بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ خود امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے پر اس تنظیم کو بنانے یا معاونت فراہم کرنے کے سوالات موجود ہیں۔ دولت اسلامیہ کا وجود میں آنے کے بعد عراق، شام، لبنان، سینائی، یمن، الجیریا، کوکاسز، خراسان اور ویسٹ افریقہ سمیت 18 ممالک میں ان کے نیٹ ورکس کی موجودگی کا دعوی کیا گیا تھا۔
جہاں تک اسی ریجن کا تعلق ہے تو یہاں نیٹ ورک کے حوالے سے پہلے
تو متضاد دعوے سامنے آئے تاہم جب سے تنظیم نے کارروائیاں شروع کی ہیں تو اب اسے کافی خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔چند برس قبل اس جنگجو تنظیم نے باقاعدہ حافظ سعید خان کو اپنا ریجنل کمانڈر مقرر کیا تھا تاہم کچھ ہی عرصہ بعد وہ ایک ڈرون حملے میں مارے گئے۔ حافظ سعید کا تعلق پاکستان کے ایک قبائلی علاقے سے تھا۔
بی بی سی اور وائس آف امریکہ میں شائع ہونیوالے بعض مضامین کے مطابق تنظیم کچھ عرصہ قبل کافی کمزور پڑ گئی تھی لیکن اب دوبارہ تنظیم سازیاں کی گئی ہیں۔ اس حوالے سے مختلف ذرائع سے یہ معلومات ملی ہیں کہ پاک افغان داعش یا دولت اسلامیہ خراسان کی سربراہی کیلئے ڈاکٹر شہاب المہاجر نامی ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا گیا ہے جس کا تعلق مشرق وسطٰی سے ہے اور وہ ماضی میں اس خطے میں القاعدہ سے وابستہ رہے ہیں۔ بعض ذرائع کا یہ بھی دعوی ہے کہ شہاب المہاجر کا تعلق عراق سے ہے اور وہ ایک بین الااقوامی سطح کے جنگجو کمانڈر ہیں جس کی کمان میں اسی ریجن میں دولت اسلامیہ سرگرم عمل ہے تاہم بذات خود انکی یہاں موجودگی کے حوالے سے آج تک باقاعدہ ایسی کوئی خبر نہیں آئی ہے۔
حکومت اس بات کا اقرار کر چکی ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح بلوچستان میں بھی داعش نے کارروائیاں کی ہیں۔بعض واقعات کی تو اس تنظیم نے ذمہ داریاں بھی قبول کی ہیں۔ جہاں تک بلوچ تنظیموں کیساتھ ایک مرتبہ پھر سے مذاکرات کا تعلق ہے تو وزیر اعظم عمران خان نے بلوچ سیاسی رہنماء اور رکن قومی اسمبلی شاہ زین بگٹی کو ٹاسک سونپا ہے۔
سلیم صافی نے اپنے وی لاگ میں حکومت پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یا تو مؤثر مذاکرات کئے جائیں چاہے وہ ملکی سطح کے ہوں یا یہاں ملوث بیرون قوتوں کیساتھ بلوچستان کا معاملہ بہتر انداز میں اٹھایا جائے۔ اگر ایسا نہیں تو پھر بھرپور طاقت کا استعمال کرنا ہو گا تاکہ اس مسئلے کو اکھاڑ پھینکا جائے۔
دفاعی تجزیہ کار خالد لودھی کی اس بات میں بھی کافی وزن ہے کہ دشمن ہم پر ہر طرح کا وار کرتا آ رہا ہے۔ لہذا اب وقت آ گیا ہے کہ اس پتھر کا جواب اینٹ سے دینا ہو گا۔ عموما جس سطح کی بھی لڑائی ہو لیکن دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے کہیں زیادہ جواب دینا چاہیئے ورنہ دشمن پھر کمزوری کا فائدہ اٹھا کر مزید حملہ آور ہونے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔
لودھی صاحب کی اس بات میں بھی وزن ہے کہ اب دنیا کا مزید انتظار نہیں کرنا چاہیئے اور ہمیں ڈیفینسیو موڈ کو چھوڑ کر دشمن کو بھرپور جواب دینا چاہیئے۔
جہاں لڑائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے تو ایسے میں ملکی سکیورٹی ادارے بھی وقتا فوقتا بھرپور جواب دے رہی ہیں۔ ایسا بھی نہیں “پاکستان کے تمام سکیورٹی ادارے لڑائی کرنا جانتے ہیں۔”
ایسے میں اب منتخب حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مسئلے کے حوالے سے پوری قوم کو ساتھ ملائے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جہاں عوامی قوت بھرپور طریقے سے ساتھ ہو دنیا کی کوئی طاقت وہاں میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا اور مل کر فتح عوامی طاقت ہی کی ہوتی ہے۔۔ جو بھی جنگجو تنظیموں کو یہاں لڑوا کر اس منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کرے گا اسے دھول چٹا دی جائیگی۔
