کیا آپ کو معلوم ہے کہ آج فنّی و ثقافتی مرکز کے طور پر استعمال کیا جانے والا گیس خانہ عجائب گھر کسی زمانے میں حسن پاشا گیس خانہ کے نام سے استنبول کی روشنی اور ایندھن کی ضروریات کو پورا کرتا تھا؟
آئیے آپ کو حسن پاشا گیس خانے کی کہانی سناتے ہیں۔ حسن پاشا گیس خانے نے 1819 میں خدمات دینا شروع کیں اور پورے 101 سال تک استنبول کی روشنی اور ایندھن کی ضروریات کو پورا کرتا رہا۔ گیس خانے کی ٹیکنالوجی فرسودہ ہونے کے بعد ماحول کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہوئے 1993 شہر کے دیگر گیس خانوں سمیت اس گیس خانے کو بھی بند کر دیا گیا۔
130 سالہ ماضی کے حامل گیس خانے کی تاریخی ساخت کو ایک جامع مرمت اور دیکھ بھال کے بعد ایک فنّی و ثقافتی مرکز کی شکل دے دی گئی۔ 9 جولائی 2021 کو گیس خانہ عجائب گھر نے زائرین کے لئے دروازے کھول دئیے۔ گیس خانہ عجائب گھر کُل 32 ہزار مربع میٹر احاطے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس وسیع احاطے میں ماحولیاتی عجائب گھر، کارٹون اور مزاح عجائب گھر، سائنسی مرکز، کتب خانہ ، نمائشی ہال، دو عدد تھئیٹر اور کانسرٹ ہال اور ایک بُک اسٹال واقع ہے۔ عجائب گھر کے احاطے کے سرسبز حصے اور داخلی حصے میں کچرے سے بنائے گئے مجسمے بھی زائرین کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔
استنبول کی تحصیل قاضی کھوئے میں واقع گیس خانہ عجائب گھر 7 سے 70 تک ہر عمر کے زائرین کا منتظر ہے۔
