بھارتی ریاست کرناٹکا میں ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے ہراسانی کا نشانہ بننے والی مسکان خان کا کہنا ہے کہ ہرمذہب ميں آزادی ہے ہميں ہماری تہذيب پر چلنے ديا جائے۔
تفصیلات کے مطابق مسکان خان نے صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہ جب کسی کا حق چھينا جائے تو اُسے چاہيے کہ وہ اس کیخلاف آوازبلند کرے۔
مسکان خان کا کہنا تھا کہ ميں اپنا اسائنمنٹ جمع کروانے کالج جارہی تھی کہ دروازے پرسارے لڑکے جمع ہوگئے اور انہوں نے مجھے داخل ہونے سے روکر کہا کہ پہلے حجاب ہٹاؤ اور پھر اندر جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ جب ميں کسی طرح کالج ميں داخل ہوئی تو لگا يہ ہجوم مجھ پر حملہ کرنے والا ہے مگر کالج اسٹاف اور طلبہ نے تحفظ ديا۔
ادھرسوشل ميڈيا پر مسکان شيرنی اور حجاب روٹاپ ٹرينڈ کررہے ہيں۔ مڈڈے آن لائن نے مسکان کی گفتگو شئيرکی تو جوسی وليم نے مسکان کوجرات اور بہادری کی علامت قرارديا۔
The post ہميں ہماری تہذيب پر چلنے ديا جائے، مسکان خان appeared first on Daily Jasarat News.
