بحرین کے دارالحکومت منامہ پہنچنے پر اسرائیلی وزیر اعظم نیفتالی بینیٹ کا گارڈ آف آنر کے ساتھ شاندار استقبال کیا گیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کی بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ اور ولی عہد سلمان بن حمد الخلیفہ سے ملاقات ہوئی ہے ۔
اسرائیل اور بحرین کے درمیان 2020 میں باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین یہ پہلی اعلی سطحی بات چیت ہے۔ دونوں ملکوں نے امریکا کی حمایت سے معاہدہ ابراہیمی کے حصے کے طور پر اپنے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ تاہم باضابطہ سفارتی تعلقات سے قبل بھی اسرائیل کے بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ خفیہ سکیورٹی تعاون کا سلسلہ جاری تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم کا بحرین کا دو روزہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب ان کے سخت حریف ایران اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
نیفتالی بینیٹ کا یہ دو روزہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب متحدہ عرب امارات پر حوثیوں کے میزائل حملوں کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ حوثیوں کو شیعہ اکثریتی ملک ایران کی حمایت حاصل ہے۔
منامہ پہنچنے پر بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے نیفتالی بینیٹ کا خیرمقدم کیا اور انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
رواں ماہ کے اوائل میں اسرائیل کے وزیر دفاع بینی گینٹز نے بھی بحرین کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل بحرین میں واقع ایک بین الاقوامی اتحاد کے حصہ کے طور پر اپنا ایک فوجی افسر بھیجے گا۔ بحرین میں امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا موجود ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے بحرین کو دفاعی تعاون کی پیش کش کی تھی، تاہم اس کی وضاحت نہیں کی کہ دفاعی تعاون کی نوعیت کیا ہوگا۔
واضح رہے کہ اسرائیلی صدر و وزیر اعظم نے تاریخ میں پہلی بار گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا ، ناقدین اسرائیلی اعلی ترین عہدیداروں کی عرب سربراہان سے ملاقاتوں کو تاریخ کے نئے دور سے اور بدلتے عرب خطے سے تعبیر کررہے ہیں

